افغانستان: پرائمری تک لڑکیوں کے سکول کھلے ہیں مگر اساتذہ کو مستقبل کے خدشات لاحق, سکندر کرمانی، بی بی سی نیوز کابل

ہوا میں اپنے ہاتھ لہراتے ہوئے، چھ اور سات سالہ لڑکیوں کی ایک کلاس بے تابی سے اپنے استاد کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہے ، ہر ایک کی خواہش ہے کہ فارسی گرائمر کے بارے میں کیے جانے والے سوال کا جواب دینے کے لیے اسے ہی چنا جائے۔
کابل میں منوچہری پرائمری سکول 2001 میں امریکی حملے اور طالبان کی شکست کے بعد لڑکیوں کے لیے دوبارہ کھلنے والا پہلا سکول تھا۔
اس وقت یہاں صرف ایک ہی کمرہ تھا، جس میں طالبات مٹی کے فرش پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرتی تھیں۔
سنہ 1996 میں شروع ہونے والے طالبان کے دور میں لڑکیوں کو تعلیم حاصل کرنے کی اجازت نہیں تھی اور خواتین اساتذہ کو گھر میں رہنے کا حکم دیا گیا تھا۔
عائشہ مصباح انھی اساتذہ میں سے ایک تھیں۔ اب وہ ہیڈ ٹیچر ہیں اور فخر کے ساتھ نئے تعمیر کیے گئے کلاس روم دکھاتی ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ ان کی بہت سی شاگرد ڈاکٹر، انجینئر یا سکول میں ہی اساتذہ بن چکی ہیں ’یہ ہماری سب سے بڑی کامیابی ہے۔ ہماری طالبات بہت ذہین ہیں۔ وہ بہت تخلیقی صلاحیتوں کی مالک ہیں اور ایسی ایسی خوبصورت چیزیں بناتی ہیں کہ ہم حیران رہ جاتے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ طالبان یہ سب جاری رکھنے دیں گے۔‘













