القاعدہ کا افغانستان میں وجود نہیں ہے اور ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے: ترجمان طالبان
طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’القاعدہ کا افغانستان میں وجود نہیں ہے اور ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘ دوسری جانب احمد مسعود نے پنجشیر میں نو ہزار جنگجو جمع کر لیے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ان کی تحریک مذاکرات پر راضی ہے لیکن ’آخری آدمی تک دفاع کے لیے تیار ہے۔‘
لائیو کوریج
’میں یقینی طور پر قتل کر دی جاؤں گی۔۔۔ دنیا والو تمھیں معلوم ہے یہاں کیا ہو رہا ہے؟
طالبان حکومت کو تسلیم کیا جائے یا نہیں؟ انڈیا کو درپیش بڑا چیلنج
داڑھی سے ’استثنیٰ کا سرٹیفیکیٹ‘ اور طالبان کی کاسمیٹکس کی دکان سے بیویوں کے لیے خریداری
یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جائے گا۔
افغانستان سے بی بی سی اردو کی لائیو کوریج جاری ہے۔
تازہ ترین خبروں اور معلومات کے لیے ہمارے تازہ لائیو پیج پر آئیں۔
افغانستان سے روانہ ہونے والی ایک پناہ گزین نے امریکی فوجی طیارے پر بچے کو جنم دیا
افغانستان سے روانہ ہونے والی ایک حاملہ پناہ گزین نے امریکی فوجی طیارے پر بچے کو جنم دیا ہے۔
امریکی فضائیہ سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق ایک افغان خاتون جرمنی میں رامسٹن ایئر بیس کی جانب روانہ پرواز کے دوران لیبر میں چلی گئی تھیں۔
طیارے زمین پر اترنے کے بعد طبعی عملہ جہاز پر پہنچا تاہم وقت کی کمی کے باعث بچے کا جنم طیارے کے کارگو ہولڈ میں ہوا۔
اطلاعات کے مطابق بچے اور والدہ دونوں کی حالت اچھی ہے اور انھیں ایک قریبی ہسپتال میں منتقل کر دیا گیا ہے۔
X پوسٹ نظرانداز کریںX کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
افغانستان کے ہم جنس پرست: 'مجھے دیکھتے ہی مار دیا جائے گا'
بریکنگ, القاعدہ کا افغانستان میں وجود نہیں ہے اور ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے: ترجمان طالبان

،تصویر کا ذریعہGetty Images
طالبان کے ترجمان کا کہنا ہے کہ القاعدہ کا افغانستان میں کوئی وجود نہیں ہے اور طالبان کا ان کی تحریک کا ان سے کوئی رابطہ نہیں ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان محمد نعیم نے سعودی عرب کے الحدیث ٹی وی چینل کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ القاعدہ افغانستان میں موجود نہیںہے اور ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کی تحریک کے کابل پر قبضہ کرنے کے بعد سے امریکہ سمیت دیگر ممالک کے ساتھ افغانستان کی صورتحال پر بات چیت جاری ہے۔
افغانستان کی صورتحال پر امریکی صدر بائیڈن کا عوام سے خطاب متوقع

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر جو بائیڈن کا افغانستان کی صورتحال اور امریکی فوجیوں کے انخلا پر جاری تنقید کے بارے میں اتوار کی دوپہر کو عوام سے خطاب متوقع ہے۔
کابل میں پھنسے امریکی شہریوں کو نکالنے کے لیے جاری امریکی آپریشن کے بارے میں وہ متوقع طور پر سہہ پہر چار بجے عوام سے خطاب کریں گے۔
جمعے کو انھوں نے افغانستان سے ہر امریکی شہری اور اہل افغان شہری جو وہاں سے نکلنا چاہتے ہیں کو واپس لانے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔
امریکی صدر بائیڈن اس وقت ایک سیاسی دباؤ میں ہیں کیونکہ پولز کے مطابق ایک تہائی امریکیوں کے خیال میں انھوں نے افغانستان کی صورتحال اور وہاں سے انخلا کو مناسب طریقے سے سنبھالا نہیں ہے۔
این بی سی کے ایک پول کے مطابق صرف 25 فیصد شہری سمجھتے ہیں کہ انھوں نے افغانستان سے انخلا کو بہتر طریقے سے انجام دیا ہے جبکہ ساٹھ فیصد اس سے متفق نہیں ہیں۔
اسی طرح سی بی ایس کے ایک پول کے مطابق 74 فیصد شہریوں کی رائے میں افغانستان سے امریکی فوجیوں کا انخلا بہت ہی برے طریقے سے کیا گیا ہے۔
تاہم امریکی صدر کو یہ تسلی ہے کہ تقریباً ساٹھ فیصد امریکی عوام افغانستان سے امریکی فوجیوں کی واپسی کو درست اقدام قرار دیتی ہے۔
کابل ایئرپورٹ کی تازہ صورتحال
کابل ائیرپورٹ پر صورتحال قدرے پرسکون ہو گئی ہے، تصاویر میں ائیرپورٹ کے بیرونی مناظر دیکھے جا سکتے ہیں۔
عینی شاہدین نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا ہے کہ طالبان ہوائی فائرنگ کر رہے ہیں اور لوگوں کو قطاروں میں لگنے کے لیے لاٹھی چارج کیا جا رہا ہے۔
حالیہ دنوں میں افراتفری کے عالم میں اور بے چینی سے پروازوں کے حصول کی کوشش میں کم از کم 20 افغان شہری ہلاک ہوئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا ذریعہReuters
’افغانستان کو دوبارہ دہشت گردوں کو پناہ نہیں دینی چاہیے‘: او آئی سی
اسلامی ممالک کے اتحاد کی تنظیم او آئی سی کا کہنا ہے ’افغانستان کو دوبارہ کبھی دہشت گرد تنظیموں کو پناہ دینے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔‘
57 اسلامی ممالک کے اتحاد او آئی سی نے یہ بیان ایک ہنگامی اجلاس کے بعد دیا ہے۔
سعودی عرب میں قائم اس تنظیم کا کہنا ہے کہ وہ اگلے چند ماہ میں اپنے سفیر کابل بھیجے گی تاکہ ملک میں امن، استحکام اور قومی مفاہمت کی اہمیت پر زور دیا جا سکے۔
افغان شہریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے او آئی سی نے افغانستان کے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ تشدد کو ختم کریں اور فوری طور پر افغانستان میں امن قائم کریں۔
او آئی سی نے عالمی برادری پر بھی زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ’ملک کے اندرونی حالات سے بالاتر ہو کر اس کی سماجی و معاشی ترقی کے لیے اپنا تعاون اور کردار جاری رکھیں۔‘
افغانستان کی ملکہ ثریا جو اپنے دور سے آگے کی خاتون تھیں
پیوٹن: عسکریت پسند افغانستان سے بذریعہ وسطی ایشیا پناہ گزینوں کے روپ میں روس میں داخل ہو سکتے ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters
روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے وسطی ایشیا میں افغانستان سے عسکریت پنسدوں کے بطورِ پناہ گزین داخل ہونے کے امکان پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
حکمراں یونائیٹڈ روس پارٹی کے نمائندوں کے ساتھ ایک ملاقات میں پیوٹن نے مغربی ممالک کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ افغان سے نکلنے والے افراد کے امریکہ اور یورپ کے ویزوں کی پروسیسنگ جاری ہے مگر وہ روس کے پڑوسی ممالک سے توقع کرتے ہیں کہ وہ ان پناہ گزینوں کو داخلے کی اجازت دے دیں۔
امریکہ مبینہ طور پر کچھ ممالک کے ساتھ افغان پناہ گزینوں کو عارضی طور پر رکھنے کے لیے مذاکرات کر رہا ہے۔
روس سابق سوویت وسطی ایشیائی ممالک کے شہریوں کے لیے ویزا فری سفر کی اجازت دیتا ہے اور پیوٹن نے خدشات کا اظہار کیا ہے کہ عسکریت پسند پناہ گزینوں کے روپ میں روس میں داخل ہو سکتے ہیں۔
امریکہ افغانستان سے نکال لیے گئے لوگوں کی منتقلی کے لیے کمرشل طیاروں کا استعمال کرے گا

،تصویر کا ذریعہreuters
امریکہ کا کہنا ہے کہ افغانستان سے نکالے گئے لوگوں کی منتقلی میں مدد کے لیے 18 کمرشل طیارے استعمال کیے جائیں گے۔
تقریباً دو دہائیوں میں پہلی مرتبہ امریکہ کے سیکریٹری دفاع نے اس ہنگامی منصوبے پر عمل درآمد کا حکم دیا ہے جس کے تحت پینٹاگون افغانستان سے نکال لیے گئے لوگوں کی منتقلی کے لیے کمرشل اور سویلین طیارے استعمال کرے گا۔
پینٹاگون کے ایک بیان کے مطابق سیکریٹری دفاع لائیڈ آسٹن نے ’سول ریزرو ایئر فلیٹ‘ پروگرام کے پہلے مرحلے کو فعال کیا ہے تاکہ امریکی شہریوں اور اہلکاروں کا افغانستان سے انخلا کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کیا جا سکے۔
اس ایمرجنسی پلان کی تشکیل کی تاریخ میں یہ تیسرا موقع ہے کہ اس پر عمل درآمد کا حکم دیا گیا ہے۔
محکمہ دفاع نے بتایا ہے کہ یہ پروازیں کابل کے بین الاقوامی ہوائی اڈے میں داخل نہیں ہوں گی بلکہ ان لوگوں کا انخلا کرنے کے لیے استعمال کی جائیں گی جو افغانستان چھوڑنے کے بعد دوسرے ممالک میں محفوظ مقامات یا اڈوں پر عارضی طور پر امریکہ جانے والی پروازوں کا انتظار کر رہے ہیں۔
اس سے قبل امریکی میڈیا نے خبر دی تھی کہ طیارے کابل سے لوگوں کو متحدہ عرب امارات اور قطر جیسے ممالک میں لے جانے کے لیے پرواز کریں گے۔
پینٹاگون کے مطابق کمرشل ایئر لائنز کے 18 طیارے جیسے امریکن ایئرلائنز، اٹلس ایئر اور ڈیلٹا ایئر لائنز پروگرام میں حصہ لے رہے ہیں۔
پینٹاگون کے مطابق کمرشل ریزرو طیاروں کے استعمال کا ہنگامی منصوبہ پہلی بار 1991 میں آپریشن ڈیزرٹ سٹارم / شیلڈ کے دوران اور دوسری بار فروری 2002 اور جون 2003 کے درمیان آپریشن عراقی لبریشن کے دوران لاگو کیا گیا۔
کابل ائیر پورٹ سے نکلنے والے ہزاروں افغان پناہ گزین آخر کہاں جائیں گے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ہم نے ہزاروں افغانوں کی تصاویر دیکھی ہیں جو کابل ہوائی اڈے کے ذریعے ملک چھوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ کل کتنے لوگ ملک چھوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
پہلے ہی 22 لاکھ پناہ گزین پڑوسی ممالک میں رہ رہے ہیں جبکہ کئی سالوں سے جاری تنازعات اور سیاسی عدم استحکام کے نتیجے میں 35 لاکھ ملک کے اندر بے گھر ہیں۔
حالیہ دنوں میں کئی ہزار افغانوں کے پاکستان میں داخل ہونے اور چند سو تاجکستان اور ازبکستان آنے کی اطلاعات ہیں، حالانکہ اب زمینی سرحدوں پر کنٹرول طالبان کا ہے۔
ایران نے پناہ گزینوں کی آمد کے پیش نظر ہنگامی خیمے لگائے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہEPA
اگرچہ کئی یورپی ممالک نے پناہ گزینوں کو لینے کی پیشکش کی ہے تاہم وہ 2015 جیسے پناہ گزینوں کے بحران سے بچنے کے خواہشمند ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’میرے نہیں پوری قوم کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے‘
’مجھے صدمہ پہنچا ہے اور یقین نہیں آ رہا۔‘
اشرف غنی کی حکومت کی وزیرِ تعلیم رنگینہ حمیدی کا کہنا ہے کہ انھیں صدر غنی سے ایسے ملک چھوڑ جانے کی توقع نہیں تھی۔
دیکھیے بی بی سی کے ساتھ ان کی خصوصی گفتگو۔
مغربی ممالک انخلا کے ڈراموں سے افغانستان میں ’خوف و ہراس‘ پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں: طالبان کا الزام

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایک سینئر طالبان عہدیدار نے مغربی ممالک پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ طالبان کے دارالحکومت کابل پر قبضے کے بعد افغانستان میں ’خوف و ہراس‘ پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اتوار کو خطاب کرتے ہوئے عامر خان متقی نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت افراتفری کا واحد مقام کابل ایئر پورٹ ہے جہاں لوگوں کو گولیاں مار کر ہلاک کیا جا رہا ہے۔
انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکہ ’انخلا کا ڈرامہ‘ رچا کر اپنی شکست چھپانے کی کوشش کر رہا ہے۔
متقی نے طالبان کی صفوں میں ممکنہ عدم اطمینان پر بھی بات کی اورکہا کہ تحریک کے طویل مدتی مفاد اور افغانستان میں اس کے کردار کو مدِنظر رکھتے ہوئے کچھ فیصلے کیے جاتے ہیں۔
انھوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ طالبان ’تمام دھڑوں‘ کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں تاکہ مستقبل کی حکومت پر معاہدہ ہو سکے۔
بریکنگ, اب تک کابل ائیرپورٹ اور اس کے اردگرد کم از کم 20 افراد ہلاک ہو چکے ہیں: نیٹو عہدیدار

،تصویر کا ذریعہUS Marine Corps/Reuters
نیٹو کے ایک عہدیدار نے خبر رساں ادارے رؤٹرز کو بتایا کہ گذشتہ اتوار کو طالبان کے کابل پر قبضہ کرنے کے بعد سے اب تک ائیر پورٹ اور اس کے ارد گرد کم از کم 20 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
نام نے ظاہر کرنے کی شرط پر عہدیدار نے بتایا ’کابل ایئرپورٹ کے باہر کا بحران افسوسناک ہے۔ ہماری توجہ تمام غیر ملکیوں کو جلد از جلد ملک سے باہر نکالنے پر مرکوز ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ہماری فورسز نےطالبان کے ساتھ کسی بھی جھڑپ سے بچنے کے لیےکابل ائیر پورٹ کے بیرونی علاقوں سے سخت فاصلہ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
برطانوی وزارت دفاع نے اس سے قبل اعلان کیا تھا کہ ایئرپورٹ کے باہر سات افغان شہری مارے گئے ہیں، تاہم انھوں نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
برطانوی نائب وزیر دفاع نے اعلان کیا تھا کہ انخلا کا عمل تیز کیا جا رہا ہے۔
برطانوی وزارت دفاع کا کابل سے لوگوں کو نکالنے کے لیے آپریشن تیز کرنے کا اعلان

،تصویر کا ذریعہMinistry of Defence
برطانوی وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ افغانستان سے لوگوں کے انخلا کا عمل تیز کر دیا گیا ہے اور انھوں نے 1700 برطانوی اور افغان شہریوں کو راتوں رات کابل سے نکال لیا ہے۔
برطانوی نائب وزیر دفاع جیمز ہپی نے اعلان کیا کہ انخلا کے عمل میں بہتری آئی ہے۔
آج صبح برطانوی وزارت دفاع نے اطلاع دی کہ کابل ایئرپورٹ کے باہر افراتفری میں سات افغان شہری مارے گئے۔
لیکن ہپی کا کہنا ہے کہ اب طالبان افواج نے ہوائی اڈے کے مضافات کا کنٹرول سنبھال لیا ہے اور لوگوں کو قطاروں میں کھڑا کر دیا گیا ہے۔
X پوسٹ نظرانداز کریںX کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
جلال آباد میں مظاہرے کے دوران فائرنگ
سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ طالبان کے جھنڈے کے خلاف مظاہرے کے دوران فائرنگ کی گئی جس سے مظاہرین منتشر ہو گئے۔
اطلاعات کے مطابق اس واقعے میں کم از کم ایک شخص ہلاک اور کئی زخمی ہوئے ہیں۔
