گذشتہ چند ماہ کے دوران پاکستان شدید
گرمی کی لہروں اور اس کے بعد غیر متوقع بارشوں کا سامنا کر چکا ہے۔ اس سے ظاہر
ہوتا ہے کہ ال نینو مکمل طور پر فعال ہونے سے پہلے ہی ملک میں موسمی حالات غیر
مستحکم ہو چکے ہیں۔
عام طور پر ال نینو جنوبی ایشیا میں زیادہ
گرم اور خشک موسم لاتا ہے، جو 2026 کے لیے پاکستان کی موسمی پیش گوئیوں سے بڑی حد
تک مطابقت رکھتا ہے۔
ماہرین اور حکام کا کہنا ہے کہ اس کے
نتیجے میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت اور مون سون میں کم بارشیں ہوں گی، گرمی کی
شدید لہروں اور بعض علاقوں میں خشک سالی کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔ جبکہ یہ امکان
بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ موسم گرما میں معمول سے کم سردی پڑے گی۔
ان خدشات کے پیش نظر میڈیا اور
ماہرین ابتدائی وارننگ نظام مضبوط بنانے اور موسم کے حساب سے اقدامات کرنے پر زور
دے رہے ہیں۔
ال نینو اور لا نینا کیا ہیں؟
ال نینو اور لا نینا پیچیدہ موسمی
پیٹرن ہیں جو استوائی بحرالکاہل میں درجہ حرارت کے فرق کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں،
اور ان کے اثرات دنیا بھر پر مرتب ہوتے ہیں۔
’ال نینو‘ کو بعض اوقات اس قدرتی
مظہر کا گرم مرحلہ جبکہ ’لا نینا‘ کو سرد مرحلہ کہا جاتا ہے۔
عام حالات میں، بحر الکاہل میں مشرق
میں سطح کا پانی ٹھنڈا جبکہ مغرب میں گرم ہوتا ہے۔ یہاں ہوائیں مشرق سے مغرب کی
جانب چلتی ہیں اور جیسے جیسے ہوا اس سمت میں چلتی ہے سورج کی تپش پانی کو گرم
کردیتی ہے۔
ال نینو کے دوران، یہ ہوائیں کمزور
یا الٹی سمت میں چلنے لگتی ہیں جس کے باعث سطح کا نسبتاً گرم پانی مشرق کی طرف
بہنے لگتا ہے۔
جبکہ لا نینا کے دوران، مشرق سے مغرب
کی جانب چلنے والی معمول کی ہوائیں مزید تیز ہو جاتی ہیں جو سطح کے گرم پانی کو
مزید مغرب کی طرف دھکیل دیتی ہیں۔
اس کی وجہ سے سمندر کی گہرائیوں میں
موجود ٹھنڈا پانی اوپر آجاتا ہے اور مشرقی بحرالکاہل میں سمندر کی سطح کا درجہ
حرارت معمول سے زیادہ ٹھنڈا ہوجاتا ہے۔
ال نینو کے دوران عالمی درجہ حرارت
عام طور پر بڑھ جاتا ہے، جبکہ لا نینا میں درجہ حرارت نیچے آجاتا ہے۔
رواں سال مئی میں سندھ اور پنجاب
سمیت پاکستان کے کئی شہروں میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر گیا،
جبکہ بعض علاقوں میں اس سے بھی زیادہ گرمی ریکارڈ کی گئی۔
مثال کے طور پر مئی میں سندھ کے بعض
علاقوں میں درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ سے اوپر چلا گیا۔
حکام نے اس دوران قومی سطح پر متعدد انتباہ
جاری کیے۔ سات جون کو نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے ملک بھر
میں گرج چمک، شدید بارشوں اور سیلاب کے خطرات سے متعلق ہدایت نامہ جاری کیا۔
27 جون
کو محکمہ موسمیات نے خبردار کیا کہ جولائی کے پہلے ہفتے تک گلگت بلتستان اور خیبر
پختونخوا کے پہاڑی علاقوں میں گلیشیئر پگھلنے سے بننے والی جھیلوں سے پانی سیلاب
کی صورت خارج ہو سکتا ہے۔
محکمہ موسمیات نے یہ بھی کہا ہے کہ
2026 کا جنوب مغربی مون سون معمول سے کم بارشیں لا سکتا ہے۔
ادارے کے مطابق مئی میں ال نینو کے
پیدا ہونے کے واضح امکانات موجود تھے، جو پاکستان میں زیادہ درجہ حرارت اور
موسمیاتی تبدیلیاں لا سکتا ہے۔
اگرچہ سرکاری اداروں نے لوگوں کو
ممکنہ موسمی خطرات کے لیے تیار کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں، تاہم شدید موسمی
حالات کے انسانی اثرات اب بھی واضح ہیں۔
گذشتہ ماہ کراچی میں کم از کم 10
ایسی ہلاکتیں رپورٹ کی گئیں جن کا تعلق گرمی سے تھا۔
موسمیاتی تبدیلی کے طویل المدت
رجحانات بھی خطرے کی گھنٹی بجا رہے ہیں۔ ڈان اخبار کے مطابق پاکستان اکنامک سروے 26-2025
سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2025 گذشتہ 65 برسوں میں ملک کا دوسرا گرم ترین سال تھا۔
مقامی میڈیا میں شامل موسمیاتی
ماہرین موجودہ ریکارڈ گرمی اور غیر متوقع موسمی صورتحال کو ممکنہ طور پر آنے والے
شدید ال نینو سے جوڑ رہے ہیں۔
پاکستانی ذرائع ابلاغ نے رپورٹ کیا
ہے کہ ال نینو خوراک کی پیداوار پر دباؤ بڑھا سکتا ہے، زرعی سرگرمیوں کو متاثر کر
سکتا ہے اور وسیع تر معاشی مشکلات کا سبب بن سکتا ہے۔ میڈیا رپورٹس میں خبردار کیا
گیا ہے کہ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو ال نینو سے جڑے موسمیاتی خطرات سے سب
سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔
18 جون کو اسلام آباد میں قائم تھنک
ٹینک انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹیجک سٹڈیز اسلام آباد (آئی ایس ایس آئی) کی ایک رپورٹ میں
کہا گیا کہ ممکنہ ’سپر ال نینو‘ پاکستان کے لیے کثیر الجہتی چیلنج بن سکتا ہے
کیونکہ اس کے اثرات پانی کے تحفظ، زراعت، صحت، توانائی اور مجموعی معیشت تک پھیل
سکتے ہیں۔
حکام مسلسل موسمی اور آب و ہوا سے
متعلق رجحانات کی نگرانی کر رہے ہیں۔
ڈان کی 18 جون کی رپورٹ کے مطابق، خلائی
تحقیق کے قومی ادارے سپارکو نے شمالی پاکستان میں گلوف کے خطرات کو کم کرنے کے لیے
130 ممکنہ طور پر خطرناک جھیلوں کی نشاندہی کی ہے۔
اگرچہ حکومت گذشتہ چند برسوں کے
دوران پاکستان کلائمیٹ پراسپیریٹی پلان، قومی خشک سالی ایکشن پلان، گلیشیئرز کے
تحفظ سے متعلق منصوبوں اور موسمیاتی مالی معاونت بہتر بنانے جیسے اقدامات متعارف
کرا چکی ہے، تاہم حال ہی میں موسمیاتی تبدیلی کی وزارت کے لیے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ
پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت مختص رقم 3.5 ارب روپے سے کم کر کے 2.48 ارب روپے
کر دی گئی ہے۔
اس فیصلے پر بعض سیاست دانوں اور
میڈیا حلقوں نے تنقید کی ہے۔
18 جون کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی
برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ کاری کی چیئرپرسن سینیٹر شیری رحمان نے
ان مسلسل کٹوتیوں پر سوال اٹھاتے ہوئے انھیں ’حیران کن‘ قرار دیا۔ انھوں نے خبردار
کیا کہ پاکستان موسمیاتی خطرات کے حوالے سے زیادہ مشکل دور میں داخل ہو رہا ہے۔
ال نینو سے لاحق ممکنہ خطرات کے پیش
نظر ماہرین اور میڈیا نے موسمیاتی تبدیلی، گرمی کی شدید لہروں اور دیگر متعلقہ
چیلنجز سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
متعدد میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے
کہ دنیا کے بڑھتے درجہ حرارت کے پس منظر میں خطے کو ال نینو کے اثرات کا بھی سامنا
ہے، اسے ایک سنجیدہ تنبیہ کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
ذرائع ابلاغ کی رپورٹس میں حکومتی
تیاریوں کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پاکستان کو بدلتے موسم کے اثرات
سے نمٹنے کے لیے ایک جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے۔