آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

امریکہ نے ایرانی پاسداران انقلاب کے ساتھ براہِ راست رابطہ قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے: وینس

ایک انٹرویو کے دوران جے ڈی وینس نے بتایا کہ اس انتظام کے تحت ایرانی اور امریکی فوجی حکام دوحہ میں ملاقاتیں کریں گے جہاں وہ باہمی تنازعات کو حل کرنے کی کوشش کریں گے۔

خلاصہ

  • وینزویلا میں دو شدید زلزلوں کے بعد ایمرجنسی نافذ، ہزاروں افراد کی ہلاکت کا خدشہ
  • زلزلے سے شدید نقصان کے باعث وینزویلا کا مرکزی ایئرپورٹ بند
  • ٹرمپ کا کانگریس سے 87 ارب ڈالر جاری کرنے کا مطالبہ: اس فنڈنگ کا بیشتر حصہ ایران جنگ سے جڑی 'ہنگامی ضروریات' کے لیے ہے، وائٹ ہاؤس
  • ایران نے وعدے پورے نہ کیے تو ٹرمپ کے پاس کئی آپشنز ہیں: مارکو روبیو
  • امریکہ نے اسرائیلی فوج کو جنوبی لبنان سے واپس بلانے کا کوئی مطالبہ نہیں کیا: وزیر دفاع اسرائیل کاٹز
  • پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں تحریک انصاف کو انتخابات میں حصہ لینے کی عبوری اجازت

لائیو کوریج

  1. وینزویلا میں زلزلے کے بعد تباہی کے مناظر

    بدھ کے روز وینزویلا میں آنے والے دو بڑے زلزلوں کے بعد ملک سے مزید تصاویر سامنے آ رہی ہیں جن میں زلزلوں سے ہونے والی تباہی کے مناظر دیکھے جا سکتے ہیں۔

    وینزویلا کی حکومت نے اب تک 32 افراد کی ہلاکت اور 700 سے زائد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے تاہم ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

  2. وینزویلا میں زلزلے سے کم از کم 32 افراد کے ہلاک اور 700 سے زائد کے زخمی ہونے کی تصدیق

    وینزویلا کی قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگز کے مطابق زلزلے کے نتیجے میں کم از کم 32 افراد ہلاک جبکہ تقریباً 700 زخمی ہوئے ہیں۔

    ہلاکتوں کی تعداد کے حوالے سے یہ پہلا سرکاری اعداد و شمار ہے جو انھوں نے جاری کیا ہے۔

    یاد رہے کہ امریکی جیولوجیکل سروے (یو ایس جی ایس) نے زلزلے سے بڑے پیمانے پر جانی نقصان اور وسیع تباہی کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔ یو ایس جی ایس کے اندازے کے مطابق دوسرے زلزلے کے بعد 44 فیصد امکان ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد 10,000 سے زائد ہو سکتی ہے جبکہ ہلاکتیں ایک لاکھ سے تجاوز کرنے کا 30 فیصد امکان ہے۔

  3. ایران کے خلاف جنگ میں حصہ لینے پر نیٹو کو جواب دہ ٹھہرایا جانا چاہیے: اسماعیل بقائی

    ایران کے وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹ کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیٹو سیکریٹری جنرل کا بیان اس بات کا اعتراف ہے کہ نیٹو نے ایک خودمختار اقوامِ متحدہ کے رکن ملک کے خلاف غیر قانونی جنگ میں حصہ لیا۔

    انھوں نے ایکس پر جاری اپنے بیان کے ساتھ مارک روٹ کی فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو کی ویڈیو شیئر کی ہے۔ اس ویڈیو میں نیٹو کے سیکریٹری جنرل کو کہتے سنا جا سکتا ہے کہ آپریشن ایپک فیوری کے دوران اٹلی میں موجود امریکی اڈے سے تقریباً 500 امریکی جہازوں نے اڑان بھری تھی۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ اس ہی دوران ایک اور یورپی ملک رومانیا کے دارالحکومت کے ایئر پورٹ پر مسافربردار جہازوں کی پروازیں کم کرنی پڑیں کیونکہ ایئر پورٹ کو بطور ٹینکر کی سہولت کے استعمال کیا جا رہا تھا۔

    یاد رہے کہ امریکہ نے ایران کے خلاف فروری کے آخر میں شروع کی جانے والی فوجی کارروائیوں کو آپریشن ایپک فیوری کا نام دیا تھا۔

    اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ نیٹو اور اس کے رکن ممالک جنھوں نے اس فیصلے میں حصہ لیا انھیں اس کے لیے جواب دہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔

  4. وینزویلا میں یہ زلزلے کیوں آئے؟

    وینزویلا ایک ایسے خطے میں واقع ہے جہاں زلزلے نسبتاً زیادہ آتے ہیں، کیونکہ یہاں دو ٹیکٹونک پلیٹس — کیریبین پلیٹ اور جنوبی امریکی پلیٹ — آپس میں ملتی ہیں۔

    امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق آج آنے والے دو زلزلوں میں سے دوسرا اور زیادہ طاقتور زلزلہ ان پلیٹس کی سرحد کے قریب ’سطحی سٹرائیک سلِپ فالٹنگ‘ کے نتیجے میں آیا۔

    یہ اس وقت ہوتا ہے جب فالٹس یا پلیٹس کے درمیان دراڑیں اوپر کی سمت میں حرکت کرتی ہیں۔ جب یہ حرکت تیزی سے ہوتی ہے تو زلزلہ پیدا ہوتا ہے۔

    یو ایس جی ایس کے مطابق ’اگرچہ زلزلوں کو عموماً نقشوں پر ایک نقطے کے طور پر دکھایا جاتا ہے، لیکن اس شدت کے زلزلے دراصل ایک بڑے فالٹ کے حصے میں پھسلاؤ (سلِپ) کی وجہ سے ہوتے ہیں۔‘

    ادارے کا کہنا ہے کہ آج آنے والے زلزلے غالباً ’پیچیدہ شگاف اور ٹوٹ پھوٹ کے عمل‘ کی نشاندہی کرتی ہے۔

    اس کے ساتھ یہ بھی خبردار کیا گیا ہے کہ اب بھی آفٹر شاکس آنے کا امکان ہے جن میں ’کچھ ممکنہ طور پر شدید بھی ہو سکتے ہیں۔‘

  5. ٹرمپ اور لاطینی امریکہ کے ممالک کا وینزویلا کی مدد کا اعلان: ہم اپنے نئے اور عظیم دوستوں کے ساتھ کھڑے ہوں گے، امریکی صدر

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری ایک پیغام میں کہا ہے کہ وینزویلا میں آنے والے دو زلزلوں نے کی شدت بہت زیادی تھی اور ان کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ ’امریکہ مدد کے لیے تیار، پرعزم اور مکمل طور پر قابل ہے!ً‘

    ٹرمپ نے کہا کہ انھوں نے ’حکومت کے تمام اداروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ فوری کارروائی کے لیے تیار رہیں۔‘

    ان کا مزید کہنا ہے کہ ’ہم اپنے نئے اور عظیم دوستوں کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ ابتدائی طور پر موصول ہونے والی اطلاعات اچھی نہیں!!!‘

    تاحال وینزویلا کی حکومت کی جانب سے ہلاکتوں کی تعداد کے متعلق اعدادوشمار فراہم نہیں کیے گئے ہیں۔

    اس سے قبل امریکی نائب وزیرِ خارجہ برائے غیر ملکی امداد جیرمی لیون نے کہا تھا کہ ان کا ملک وینزویلا میں تلاش اور امدادی ٹیمیں، طبی سہولیات اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امدادی سامان بھیجے گا۔

    انھوں نے کہا کہ محکمۂ خارجہ کی ڈیزاسٹر اسسٹنس ٹیم وینزویلا کی قائم مقام حکومت کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔

    دوسری جانب لاطینی امریکہ کے دیگر ممالک نے بھی مدد کی پیشکش کی ہے۔

    ایل سلواڈور کے صدر نایب بوکیلے نے کہا ہے کہ ان کے ملک نے 50 ٹن سازوسامان اور امدادی اشیا کے ساتھ 300 ریسکیو اہلکار تیار کر لیے ہیں جو ’کراکس روانہ ہونے کے لیے تیار‘ ہیں۔

    ایکواڈور کے صدر ڈینیئل نوبوا ازین کے مطابق ان کا ملک بھی فوری طور پر وینزویلا کو امداد بھیجنے کا انتظام کر چکا ہے۔

    ادھر برازیل کے صدر لوئز اناسیو لولا دا سلوا نے کہا ہے کہ ان کا ملک جائزہ لے گا کہ وہ اپنے برادر ملک کی مدد کے لیے کیا اقدامات کر سکتے ہیں۔

    میکسیکو کے وزیرِ خارجہ روبرٹو ویلاسکو الواریز نے بھی وینزویلا کے ساتھ ’مکمل یکجہتی اور ہر ممکن تعاون‘ کی پیشکش کی ہے۔

  6. ایرانی پاسداران انقلاب کا آبنائے ہرمز سے جہازوں کے گزرنے کے لیے ’ایک نئے راستے کا اعلان‘

    ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے ’آبنائے ہرمز سے جہازوں کے گزرنے کے لیے ایک نیا راستہ مقرر‘ کیا ہے۔

    پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے صرف وہی راستہ استعمال کرنے کی اجازت ہے جس کا اعلان ایران نے کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ جہازوں پر لازم ہے کہ وہ ’چینل 16 کے ذریعے‘ اور ایرانی فورسز کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے ہی سفر کریں۔

    یاد رہے کہ گذشتہ روز عمان نے اعلان کیا تھا کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جہاز رانی کے عمل کو آسان اور تیز بنانے کے لیے ایک نیا سمندری راستہ کھول دیا ہے۔ تاہم پاسدارانِ انقلاب کے بیان میں واضح نہیں بتایا گیا کہ آیا یہ یہی وہ نیا راستہ ہے یا نہیں۔

    دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ’ایران نے امریکہ کو یقین دہانی کروائی ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر نہ کوئی ٹول ٹیکس عائد کیا جا رہا ہے، نہ انشورنس اخراجات لیے جا رہے ہیں اور نہ ہی کسی قسم کی کوئی اور فیس وصول کی جا رہی ہے۔‘

    صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ اگر یہ معلومات غلط ثابت ہوئیں تو مذاکرات فوری طور پر ختم کر دیے جائیں گے۔

  7. ’زلزلہ اتنا شدید تھا کہ مجھے لگا کہ عمارت میرے اوپر گر جائے گی‘: وینزویلا میں آنے والے زلزلے کے دوران عینی شاہدین نے کیا دیکھا

    وینزویلا کے دارالحکومت کراکس میں مقیم صحافی نکول کولسٹر اس وقت اپنے گھر میں موجود تھیں جب زلزلے کے نتیجے میں ان کا اپارٹمنٹ بری طرح سے ہلنے لگا۔

    ’میں نے کھڑکیوں کو ہلتے دیکھا اور میرے ذہن میں صرف یہی آیا کہ میں دروازے اور پتھر کی دیوار کے درمیان جگہ لے لوں... تاکہ خود کو بچا سکوں۔‘

    بدھ کے روز چند سیکنڈ کے وقفے سے آنے والے 7.2 اور 7.5 شدت کے دو زلزلوں کے بعد شہر سے منہدم عمارتوں اور سڑکوں پر جمع لوگوں کی تصاویر سامنے آ رہی ہیں۔ امریکی جیولوجیکل سروے نے خبردار کیا ہے کہ 44 فیصد امکان ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد 10,000 سے زائد ہو سکتی ہے۔

    کولسٹر نے بی بی سی منڈو کو بتایا کہ یہ ان کی زندگی کا سب سے شدید زلزلہ تھا۔ ’یہ اتنا شدید تھا کہ مجھے لگا کہ عمارت میرے اوپر گر جائے گی۔‘

    وہ کافی دیر تک اپنے ساتویں منزل کے اپارٹمنٹ میں دروازے اور دیوار کے درمیان چھپی رہیں یہاں تک کہ انھیں پڑوسیوں کی آوازیں سنائی دیں جو لوگوں سے عمارت خالی کرنے کا کہہ رہے تھے۔

    ان کا مزید کہنا ہے کہ قریب ہی منہدم ہونے والی عمارت کے ملبے سے لوگوں کو مدد کے لیے پکارتے سنا جا سکتا ہے۔

    پالوس گرانڈیس کی ایک رہائشی ماریا ایلِیس کہتی ہیں کہ زلزلے کے جھٹکوں سے ان کے اپارٹمنٹ کی کچھ دیواروں میں دراڑیں پڑ گئی ہیں۔

    انھوں نے بی بی سی منڈو کو بتایا کہ ’باہر بجلی کے کھمبے گر چکے ہیں، بجلی نہیں ہے اور سگنل بھی نہیں آ رہے۔‘

    یہ کراکس میں آنے والا پہلا بڑا زلزلہ نہیں۔ 1967 میں آنے والے 6.6 شدت کے زلزلے نے شہر کو ہلا کر رکھ دیا تھا، اس واقعے میں 200 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

    تاہم کچھ رہائشی جو کہ 1967 کے زلزلے کے وقت موجود تھے کہتے ہیں کہ آج کا زلزلے کہیں زیادہ شدید تھا۔

    80 سالہ پنشنر ماریا رومرو نے کہا، ’یہ زلزلہ بہت خوفناک تھا، 1967 والے سے بھی زیادہ۔‘

  8. زلزلے سے شدید نقصان کے باعث وینزویلا کا مرکزی ایئرپورٹ بند کر دیا گیا

    وینزویلا کے مرکزی بین الاقوامی ہوائی اڈے مائیکیتیا کو زلزلے سے ہونے والے ’شدید نقصان‘ کے باعث بند کر دیا گیا ہے۔

    وینزویلا کی قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگز نے قومی ٹیلی وژن پر خطاب کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ زلزلے کے نتیجے میں ایئرپورٹ کے ترمینل کو شدید نقصان پہنچا ہے جس کے بعد اسے بند کر دیا گیا ہے۔

    اس سے قبل سامنے آنے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ زلزلے کے کے دوران لوگ ہوائی اڈے کی راہداریوں میں بھاگ رہے ہیں، جبکہ چھتوں سے ملبہ نیچے گرتا نظر آ رہا ہے۔

  9. ٹرمپ کا کانگریس سے 87 ارب ڈالر جاری کرنے کا مطالبہ: اس فنڈنگ کا بیشتر حصہ ایران جنگ سے جڑی ’ہنگامی ضروریات‘ کے لیے ہے، وائٹ ہاؤس

    وائٹ ہاؤس نے امریکی کانگریس کے ارکانِ سے 87.6 ارب ڈالر (66.5 ارب پاؤنڈ) کی منظوری کا مطالبہ کیا ہے جس کا بڑا حصہ ایران کے خلاف امریکی جنگ سے جڑی ’ہنگامی ضروریات‘ کے لیے مختص ہے۔ یہ مطالبہ کانگریس کی جانب سے ایک قرارداد کی منظور کے بعد سامنے آیا ہے جس میں فوجی کارروائی پر تنقید کی گئی تھی۔

    وائٹ ہاؤس کے مطابق اس فنڈنگ میں سے 67 ارب ڈالر محکمۂ دفاع کے لیے ہے جس میں 21 ارب ڈالر اسلحہ و گولہ بارود، 17.3 ارب ڈالر آپریشنل اخراجات اور 12.1 ارب ڈالر خفیہ پروگراموں کے لیے رکھے گئے ہیں۔

    باقی رقم غیر متعلقہ اقدامات کے لیے ہے جن میں 11 ارب ڈالر امریکی کسانوں کے لیے اور 1.4 ارب ڈالر وسطی افریقہ میں ایبولا کے پھیلاؤ سے نمٹنے کے لیے شامل ہیں۔

    تاہم اس تجویز کو کانگریس میں سخت مخالفت کا سامنا ہو سکتا ہے کیونکہ ایران کے ساتھ تنازع ووٹرز میں غیر مقبول ہے اور رواں سال نومبر میں وسط مدت ہونے جا رہے ہیں۔

    وائٹ ہاؤس کے آفس آف مینجمنٹ اینڈ بجٹ نے بدھ کے روز ایوانِ نمائندگان کے سپیکر مائیک جانسن کو ایک خط کے ذریعے اس فنڈ کی باضابطہ درخواست بھیجی ہے۔

    خط میں کہا گیا ہے کہ ’اس درخواست کا زیادہ تر حصہ آپریشن ایپک فیوری ے متعلق ہنگامی ضروریات کو پورا کرے گا‘۔ ایران کے خلاف فروری کے اواخر میں شروع کی جانے والی جنگ کو آپریشن ایپک فیوری کا نام دیا گیا تھا۔

    اس درخواست میں مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں امریکی سفارت خانوں اور سفارتی مراکز کی سکیورٹی بڑھانے کے لیے تقریباً 30 کروڑ ڈالر بھی شامل ہیں۔ جنگ کے دوران ان میں سے بعض مقامات پر حملے کیے گئے تھے۔

  10. وینزویلا کی قائم مقام صدر نے ملک میں ایمرجنسی نافذ کردی

    وینزویلا کی قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگز نے قومی ٹیلی وژن پر خطاب کرتے ہوئے ملک میں ایمرجنسی نافاذ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ ’قوم کے لیے ہمارا پہلا پیغام یہ ہے کہ کوگوں کی جانیں بچانے کے لیے متحد رہیں۔

    صدر نے بتایا کہ ہفتے کے باقی دن تمام تعلیمی ادارے بند رہیں گے اور ضروری خدمات کے علاوہ تمام سرگرمیاں معطل کر دی گئی ہیں۔

    روڈریگز نے ڈاکٹروں اور نرسوں سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری طور پر طبی مراکز پہنچیں۔

  11. وینزویلا میں زلزلہ، بڑے پیمانے پر نقصان اور ہلاکتوں کا خدشہ

    وینزویلا میں بدھ کی شام ایک منٹ سے بھی کم وقفے میں آنے والے دو طاقتور زلزلوں کے نتیجے میں ہزاروں افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے۔

    پہلا 7.2 شدت کا زلزلہ ریاست کارابوبو میں آیا جس کا مرکز دارالحکومت کراکس سے تقریباً 20 کلومیٹر دور تھا۔ امریکی جیولوجیکل سروے (یو ایس جی ایس) کے مطابق صرف 39 سیکنڈ بعد اس سے بھی زیادہ شدت کا دوسرا زلزلہ آیا جس کی شدت 7.5 ریکارڈ کی گئی۔

    ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ان زلزلوں کے نتیجے میں کتنی ہلاکتیں ہوئی ہیں اور نہ ہی دیگر نقصانات کی نوعیت اور پیمانے کا اندازہ لگایا جا سکا ہے۔

    یو ایس جی ایس کے مطابق بڑے پیمانے پر جانی نقصان اور وسیع تباہی کا امکان ہے، اور اندازہ ہے کہ دوسرے بڑے جھٹکے کے بعد 44 فیصد امکان ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد 10,000 سے زائد ہو سکتی ہے جبکہ ہلاکتیں ایک لاکھ سے تجاوز کرنے کا 30 فیصد امکان ہے۔

    کراکس میں بھی شدید جھٹکے محسوس کیے گئے جہاں عمارتیں منہدم ہو گئی ہیں، پیٹرول کی فراہمی معطل ہو چکی ہے اور ملبے تلے دبے لوگ مدد کے لیے پکار رہے ہیں۔

    وزیرِ داخلہ نے رہائشیوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے گھروں سے باہر نکل جائیں۔

  12. دشمن کی دشمنی محض ایک معاہدے پر دستخط سے ختم نہیں ہوتی: اسماعیل بقائی

    ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے مفاہمتی عمل سے متعلق حالیہ پیش رفت پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’امریکہ نے کبھی بھی ایرانی قوم کے ساتھ اپنے رویے میں سچائی اور شفافیت کا مظاہرہ نہیں کیا۔‘

    انھوں نے ایکس پر اپنے پیغام میں لکھا کہ ’ایران نے بداعتمادی کے باوجود نیک نیتی کے ساتھ سفارتی عمل میں حصہ لیا اور مسلط کردہ جنگ کے خاتمے سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔‘

    اسماعیل بقائی کے مطابق ’ایرانی عوام جانتے ہیں کہ دشمن کی دشمنی محض ایک معاہدے پر دستخط سے ختم نہیں ہوتی اور ایران ہر قدم 50 سالہ تجربات خصوصاً گزشتہ ڈیڑھ سال کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اٹھائے گا۔‘

    ترجمان نے امریکہ پر الزام عائد کیا کہ وہ جنگ کے خاتمے سے متعلق مفاہمت پر متضاد بیانات دے رہا ہے، جو نہ صرف ایرانیوں کے شکوک و شبہات کو کم نہیں کرتے بلکہ ماضی کی وعدہ خلافیوں کی یاد بھی تازہ کرتے ہیں۔

  13. ایرانی اور سعودی وزرائے خارجہ کے درمیان جنگ بندی معاہدے اور علاقائی صورتحال پر ٹیلیفونک رابطہ

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور سعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے بدھ کے روز ایک ٹیلیفونک رابطے میں جنگ بندی معاہدے پر عملدرآمد کی پیش رفت اور تازہ سفارتی مشاورت پر تبادلہ خیال کیا۔

    دونوں رہنماؤں نے خطے اور عالمی سطح پر تازہ ترین پیش رفت کا جائزہ لیا اور اس بات پر زور دیا کہ مسلسل مشاورت، سفارتی رابطوں کے تسلسل اور مشترکہ تعاون کو فروغ دینا خطے کے استحکام کے لیے ضروری ہے، تاکہ مذاکراتی عمل کو مثبت اور دیرپا نتائج کی طرف لے جایا جا سکے۔

    یہ رابطہ تہران اور ریاض کے درمیان جاری مسلسل سفارتی روابط کا حصہ ہے، جنھوں نے سنہ 2023 میں اپنے تعلقات بحال کیے تھے اور اس کے بعد سے مختلف علاقائی معاملات پر باقاعدہ مشاورت جاری رکھی ہوئی ہے۔

  14. ایران نے وعدے پورے نہ کیے تو ٹرمپ کے پاس کئی آپشنز ہیں: مارکو روبیو

    امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ ایران کے لیے 60 روزہ پابندیوں میں نرمی ایک عارضی اقدام ہے اور واشنگٹن کو توقع ہے کہ تہران معاہدے کے تحت کیے گئے وعدوں پر عمل کرے گا۔

    کویت سٹی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ اگر ایران اپنے وعدے پورے نہیں کرتا تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس مختلف آپشنز موجود ہیں، جن میں پابندیوں کی بحالی بھی شامل ہو سکتی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’میں یہ نہیں کہہ رہا کہ ایسا ضرور ہوگا، لیکن صدر کے پاس یہ اختیار موجود ہے کہ پابندیاں واپس بحال کر دی جائیں۔‘

    مارکو روبیو نے کہا کہ ایران نے سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات کے دوران واضح وعدے کیے تھے اور صدر ٹرمپ نے بھی واضح کر دیا ہے کہ ان وعدوں کی پاسداری ضروری ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ اگر ایران اپنے وعدے پورے کرتا ہے تو پیش رفت جاری رہے گی، بصورت دیگر امریکہ کے پاس صورتحال سے نمٹنے کے لیے دیگر راستے موجود ہیں۔

  15. بلوچستان میں اغوا ہونے والے ترک شہری دو ماہ بعد بازیاب، واپس وطن روانہ, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    بلوچستان کے ضلع چاغی میں دو ماہ قبل اغوا کیے جانے والے ترکی کے ایک شہری کو بازیاب کرا لیا گیا ہے اور وہ اپنے وطن واپس پہنچ چکے ہیں۔

    بلوچستان کے ایک سینیئر سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ غیر ملکی شہری کو چند روز قبل ضلع مستونگ کے علاقے سے بازیاب کرایا گیا تھا۔

    اہلکار کے مطابق ترک شہری کو اپریل میں ضلع چاغی کے علاقے داریگوان میں ایک نجی معدنی منصوبے پر حملے کے دوران اغوا کیا گیا تھا۔ اس حملے میں نامعلوم مسلح افراد نے ایک ڈرلنگ سائٹ کو نشانہ بنایا تھا، جس کے نتیجے میں ترکی سے تعلق رکھنے والے ایک ڈرلر سمیت آٹھ افراد ہلاک ہو گئے تھے، جبکہ حملہ آوروں نے منصوبے کی مشینری کو بھی نقصان پہنچایا۔

    حکام کا کہنا ہے کہ اسی واقعے کے دوران مسلح افراد نے ترکیہ سے تعلق رکھنے والے ایک اور ڈرلر، صالح گل جمال، کو اپنے ساتھ لے گئے تھے۔

    سینیئر سرکاری اہلکار کے مطابق مغوی شہری کو مستونگ کے علاقے کردگاپ سے بازیاب کرایا گیا۔ تاہم بعض اطلاعات کے مطابق اغوا کاروں نے اسے اسی علاقے میں چھوڑ دیا تھا، جہاں سے مقامی حکام نے اسے تحویل میں لے کر کوئٹہ منتقل کیا۔

    ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ترک شہری کی بازیابی کسی تاوان کی ادائیگی کے نتیجے میں عمل میں آئی یا اغوا کاروں نے انھیں بغیر کسی شرط کے چھوڑ دیا۔

    کوئٹہ میں پولیس حکام نے بازیاب ہونے والے شہری کا بیان ریکارڈ کیا ہے۔ ایک اہلکار کے مطابق اغوا کے بعد انھیں مختلف پہاڑی علاقوں میں رکھا گیا تھا۔

    حکام کا کہنا ہے کہ بازیابی کے وقت ترک شہری کی طبیعت تسلی بخش تھی۔ وہ پہلے ترکی میں ڈرلنگ کے شعبے سے وابستہ تھے تاہم بہتر معاوضے کی پیشکش پر پاکستان میں کام کرنے آئے تھے۔

    سرکاری اہلکار کے مطابق بعد ازاں انھیں کوئٹہ سے کراچی منتقل کیا گیا، جہاں سے وہ اپنے وطن ترکی واپس روانہ ہو گئے۔

  16. کویت میں امریکی سفارتخانہ دوبارہ فعال، وزیر خارجہ مارکو روبیو کی کویت کے امیر سے ملاقات

    امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کویت کے امیر شیخ مشعل الاحمد الجابر الصباح سے ملاقات کی ہے جس میں علاقائی صورتحال اور دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکہ خلیج فارس میں اپنے قریبی اتحادیوں کو یقین دلانے کی کوشش کر رہا ہے، جو واشنگٹن اور تہران کے درمیان ممکنہ مفاہمت اور حالیہ کشیدگی سے متاثر ہوئے ہیں۔

    رپورٹس کے مطابق بعض خلیجی ممالک کو خدشہ ہے کہ ایران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ سمجھوتے میں اس کے میزائل پروگرام اور خطے میں اس کے حمایت یافتہ گروپوں، پراکسیز، سے متعلق ان کے تحفظات کو مکمل طور پر شامل نہیں کیا جا رہا۔

    کویت کے امیر سے ملاقات سے قبل مارکو روبیو نے کویت میں امریکی سفارت خانے کی عمارت میں پرچم کشائی کی تقریب میں شرکت کی، جو جنگ کے دوران بند کر دی گئی تھی اور اب دوبارہ کھولی جا رہی ہے۔

    ملاقات کے بعد مارکو روبیو نے کہا کہ ’کویت علاقائی سلامتی اور استحکام کے لیے ایک اہم اور ناگزیر شراکت دار ہے‘ اور امریکہ کویت کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مضبوط بنانا چاہتا ہے۔

    مارکو روبیو کے دورے کا اگلا پڑاؤ بحرین ہوگا، جہاں وہ مزید علاقائی رہنماؤں سے ملاقاتیں کریں گے۔

    دوسری جانب، ایران نے حالیہ جنگ کے دوران متحدہ عرب امارات، کویت اور بحرین میں امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات کو نشانہ بنانے کے دعوے کیے تھے، جن کے بارے میں تہران کا کہنا تھا کہ یہ اڈے اس کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال ہو رہے تھے۔

    کویت کے امیر سے ملاقات کے بعد مارکو روبیو نے کہا کہ امریکہ ایران کے حوالے سے خلیج فارس میں اس کے اتحادیوں کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والا کوئی کام نہیں کرے گا۔

    امریکی وزیر خارجہ نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ آبنائے ہرمز کو ٹریفک کے لیے کھلا اور آزاد ہونا چاہیے۔

    امریکی وزیر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ماہرانہ مذاکرات دوبارہ شروع ہوں گے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان اہم ثالث پاکستان نے آج کہا کہ یہ ملاقاتیں اگلے ہفتے، ’شاید منگل سے‘ جاری رہیں گی۔

  17. امریکہ نے اسرائیلی فوج کو جنوبی لبنان سے واپس بلانے کا کوئی مطالبہ نہیں کیا: وزیر دفاع اسرائیل کاٹز

    اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے اسرائیلی فوج کو جنوبی لبنان سے واپس بلانے کا کوئی مطالبہ نہیں کیا گیا۔

    اُدھر لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی فوج نے قصبہ یاتر کے نواحی علاقوں کو توپ خانے کے گولوں سے نشانہ بنایا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت میں 60 روزہ جنگ بندی کے لیے لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کے خاتمے کی شرط بھی رکھی گئی ہے۔

    تل ابیب میں ایک انٹرویو میں اسرائیل کاٹز کا کہنا تھا کہ ’ہم پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں کہ ہم کسی بھی صورت میں پیچھے نہیں ہٹیں گے، اور اس وقت تک، اور یہ ایک سفارتی کامیابی ہے، امریکہ کی طرف سے اسرائیل کو لبنان سے نکلنے کے لیے کوئی مطالبہ سامنے نہیں آیا۔‘

    جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر مستقبل میں امریکہ کی جانب سے ایسا کوئی مطالبہ کیا جاتا ہے تو کیا اسرائیلی فوج اس پر عمل کرے گی، تو انھوں نے کہا کہ انھوں نے امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کو جبکہ وزیر اعظم نیتن یاہو نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو یہ بات واضح کر دی ہے کہ ’ہم وہاں شمالی علاقوں کے رہائشیوں کے تحفظ کے لیے موجود ہیں۔‘

  18. پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں تحریک انصاف کو انتخابات میں حصہ لینے کی عبوری اجازت, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں مظفرآباد ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی کشمیر کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دے دی ہے۔

    ’آزاد جموں و کشمیر ہائی کورٹ‘ نے ’پاکستان تحریک انصاف آزاد کشمیر‘ کی رجسٹریشن سے متعلق کیس میں عبوری حکم جاری کرتے ہوئے پارٹی کو آئندہ عام انتخابات 2026 میں حصہ لینے کی اجازت دے دی ہے۔

    عدالتِ عالیہ میں زیرِ سماعت آئینی درخواست میں پی ٹی آئی ’آزاد کشمیر‘ نے الیکشن کمیشن کے 16 مئی 2026 کے اس فیصلے کو چیلنج کیا تھا جس میں پارٹی کی رجسٹریشن سے انکار کیا گیا تھا۔ درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ فیصلہ غیر قانونی، غیر آئینی اور بنیادی حقوق کے خلاف ہے۔

    جسٹس سید شاہد بہار کی سربراہی میں عدالت نے کیس کی سماعت کے بعد عبوری حکم جاری کیا، جس کے مطابق ’پی ٹی آئی آزاد کشمیر‘ کو عام انتخابات 2026 میں شرکت کی اجازت دی گئی ہے۔ تاہم عدالت نے واضح کیا کہ یہ حکم عارضی نوعیت کا ہے اور اس کا انحصار مرکزی درخواست کے حتمی فیصلے پر ہوگا۔

    عدالت نے مزید سماعت کے لیے کیس 2 جولائی 2026 تک ملتوی کر دیا ہے، جہاں فریقین کے تفصیلی دلائل سنے جائیں گے۔

    عدالت کے تحریری حکم میں یہ بھی کہا گیا کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے، رجسٹریشن سے متعلق قانونی تقاضوں اور آڈٹ سمیت دیگر نکات کا مکمل جائزہ آئندہ سماعت میں لیا جائے گا۔

    یاد رہے کہ درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ پارٹی نے ’آزاد کشمیر الیکشن ایکٹ 2020‘ کے تحت تمام قانونی تقاضے پورے کر لیے ہیں اور آڈٹ کی تکمیل رجسٹریشن کے لیے لازمی شرط نہیں ہے۔

  19. جنوبی لبنان میں اسرائیلی ڈرون حملہ، دو افراد ہلاک

    جنوبی لبنان میں ایک کار پر اسرائیلی ڈرون حملے میں کم از کم دو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ اس کارروائی کو حزب اللہ نے جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

    لبنان کے سرکاری میڈیا کے مطابق گاڑی کو نشانہ بنانے والا یہ حملہ جنوبی شہر نبطیہ کے قریب کیا گیا۔

    بی بی سی عربی کے مطابق اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے دو ایسے افراد کو نشانہ بنایا جو اس کے بقول ’حزب اللہ کے مسلح ارکان‘ تھے۔

    اسرائیلی فوج کے دعوے کے مطابق یہ افراد اس کی افواج کے لیے خطرہ تھے۔ اسرائیلی فوج نے واضح کیا کہ وہ اپنے لیے درپیش خطرات کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گی۔

    حزب اللہ نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی ہے اور اس سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

    یاد رہے کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں شامل ایران کے ایک اہم رہنما محمد باقر قالیباف حالیہ بیان میں واضح کر چکے ہیں کہ ’لبنان میں جنگ کا خاتمہ اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ ایران میں جاری کشیدگی کا خاتمہ۔‘

  20. خلیج میں پھنسے 11 ہزار ملاحوں کے انخلا کی تیاری: انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن

    اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن (آئی ایم او) نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ کشیدگی کے باعث خلیج میں جو 11 ہزار سے زائد ملاح پھنس گئے تھے، اب ان کے انخلا کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔

    آئی ایم او کے سیکریٹری جنرل آرسینیو ڈومینگیز کے مطابق یہ ایک ’بڑے پیمانے کا آپریشن‘ ہوگا جس میں ایران، عمان، امریکہ اور خطے کے دیگر ساحلی ممالک کے ساتھ ساتھ سمندری شعبے کا تعاون شامل ہوگا۔

    انھوں نے کہا کہ انخلا کے عمل کے لیے ضروری حفاظتی ضمانتیں حاصل کر لی گئی ہیں اور محفوظ بحری نقل و حرکت کو یقینی بنانے کے لیے حالات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔

    آئی ایم او کے مطابق ملاحوں کا انخلا آبنائے ہرمز کے کھلے رہنے سے مشروط ہے جو خطے میں تیل کی ترسیل کے لیے ایک اہم گزرگاہ سمجھی جاتی ہے۔

    ادارے کے مطابق یہ اقدام بحری سلامتی کی بحالی اور سویلین جہاز رانی پر حملوں کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔