آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

خامنہ ای کے تین بیٹوں کی والد کی نماز جنازہ میں شرکت، جنازے میں ایرانیوں کو روتے ہوئے دیکھ کر حیران ہوں، صدر ٹرمپ

ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے تین بیٹے میثم، مسعود اور مصطفیٰ خامنہ ای، تہران کی مسجد میں اپنے والد کی نمازِ جنازہ کی پہلی صف میں موجود تھے۔ تاہم چوتھے بھائی اور ایران کے موجودہ رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای غیر حاضر تھے۔ دوسری جانب امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ کے جنازے میں ایرانیوں کو روتے ہوئے دیکھ کر حیران رہ گئے ہیں۔

خلاصہ

  • ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای اور اہلِ خانہ کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی
  • علی خامنہ ای کے تین بیٹے میثم، مسعود اور مصطفیٰ خامنہ ای نمازِ جنازہ میں پہلی صف میں موجود تھے، جبکہ ان کے چوتھے بیٹے اور ایران کے موجودہ رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای موجود نہیں تھے
  • نماز جنازہ آیت اللہ جعفر سبحانی تبریزی نے پڑھائی
  • ہمارے درمیان اچھی ہم آہنگی ہے، نیتن یاہو جانتے ہیں کہ باس کون ہے: صدر ٹرمپ
  • آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں سے سروس فیس وصول کی جائے گی: ایران

لائیو کوریج

  1. علی خامنہ ای اور ان کے اہل خانہ کی نماز جنازہ کی امامت ’مرجعی تقلید‘ کریں گے: ایرانی میڈیا

    ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ علی خامنہ ای اور ان کے اہل خانہ کی نماز جنازہ کی امامت ہر شہر میں ایک مرجعی تقلید‘ (شیعہ مسلک کے وہ عالم دین جن کی پیروی اور تقلید کی جاتی ہے) کرے گا۔

    ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق جعفر سبحانی تبریزی تہران میں، ناصر مکرم شیرازی قم میں اور حسین نوری ہمدانی مشہد میں نماز جنازہ پڑھائیں گے۔

    تاحال یہ واضح نہیں کہ مجتبی خامنہ ای اپنے والد اور دیگر اہل خانہ کی نماز جنازہ میں شرکت کریں گے یا نہیں۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق علی خامنہ ای کے جنازے کے انعقاد کے عملے کے سیکریٹری علی اکبر نے کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کے اپنے والد کی نماز جنازہ میں شرکت کا فیصلہ سپریم لیڈر کے گھر والوں کے پاس ہے اور اگر منصوبہ بندی کی گئی تو اس کا اعلان ان کے دفتر کے ذریعے کیا جائے گا۔

    یاد رہے کہ جنگ کے آغاز کے بعد سے مجتبیٰ خامنہ ای کو عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا نہ ہی ان کی کوئی آڈیو یا ویڈیو جاری نہیں کی گئی۔

    اسلامی جمہوریہ ایران کے نئے سپریم لیڈر 28 فروری 2026 کو جنگ کے پہلے دن اپنے والد اور اہلیہ کے قتل کے بعد سے اب تک کسی جنازے یا تقریبات میں ذاتی طور پر نظر نہیں آئے جس نے ان کی قسمت، ان کی صحت کے بارے میں بہت سی قیاس آرائیاں اور سوالات کو جنم دیا ہے۔

  2. خامنہ ای کی آخری رسومات: شاہ سلمان، انتونیو گوتیرس سمیت اہم شخصیات کے تعزیتی پیغامات

    ایران کے سابق رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای کے جنازے میں عرب اور بین الاقوامی شخصیات کے ساتھ مختلف ملکوں کے حکام نے بھی شرکت کی ہے وہیں کئی اہم شخصیات نے اپنے تعزیتی پیغامات بھی ایران کی حکومت تک پہنچائے ہیں۔

    سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور ولی عہد و وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی جانب سے اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر مسعود پزشکیان کو علی خامنہ ای کی وفات پر تعزیتی پیغام پہنچایا گیا۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے رابطہ کیا تاکہ سابق سپریم لیڈر کی وفات پر تعزیت کا اعادہ کریں اور ایرانی حکومت اور عوام سے یکجہتی کا اظہار کریں۔

    ایرانی سپریم لیڈر کی آخری رسومات میں مصر، سعودی عرب، لبنان اور دیگر ممالک کے عرب وفود نے شرکت کی۔

    مصر نے جمعے کے روز ایک سرکاری وفد کے ساتھ شرکت کی جس کی سربراہی سینیٹ کے سپیکر عصام الدین احمد محمد فرید کر رہے تھے جبکہ سعودی وفد کی سربراہی نائب وزیر خارجہ ولید بن عبدالکریم الخریجی کر رہے تھے۔

    پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی سرکاری جنازے کی تقریب میں شرکت کی۔ ان کے ہمراہ چیف آف ڈیفنس سٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی تھے۔

    اس کے علاوہ عراقی صدر نذر امیدی، جارجیا کے صدر میخائل کاویلاشویلی اور تاجکستان کے صدر امام علی رحمان بھی آخری رسومات میں موجود تھے۔

    ترکی کے نائب صدر جودت یلماز کے علاوہ لبنان کے وزیر دفاع میشل منصور، افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی اور روسی صدر پوتن کی نمائندگی کے لیے سابق روسی صدر دمتری میدویدیف بھی موجود تھے۔

    علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں سلطنت عمان نے بھی ریاستی کونسل کے چیئرمین عبدالمالک بن عبداللہ الخلیلی کی سربراہی میں ایک سرکاری وفد کے ساتھ شرکت کی۔

    قطری وفد کی سربراہی شوریٰ کونسل کے چیئرمین حسن بن عبداللہ الغنیم کر رہے تھے۔

    لبنانی حزب اللہ کا ایک وفد بھی موجود تھا جس کی سربراہی جماعت کے عہدیدار اور سابق لبنانی وزیر محمود قماطی کر رہے تھے۔

  3. علی خامنہ ای کو 'گرینڈ مصلیٰ' میں عوامی الوداع کہنے کی تقریب

    ایران میں سابق رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای اور اُن کے اہلخانہ کی آخری رسومات کا سلسلہ جاری ہے۔

    آج سے تہران کے بڑے مذہبی و ثقافتی مرکز 'گرینڈ مصلیٰ' میں عوامی الوداع کی دو روزہ تقریب کا آغاز ہو گیا ہے۔ تفصیلات اس ویڈیو میں

  4. شہباز شریف کی ترک سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری بڑھانے کی دعوت

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ترکی کے دورے کے دوران ملک کے ممتاز کاروباری و صنعتی رہنماؤں اور سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری بڑھانے کی دعوت دی ہے۔

    استنبول میں ترکی کے نمایاں کاروباری گروپوں سے ملاقاتوں کے دوران وزیراعظم نے کہا کہ حکومت پاکستان کو سرمایہ کار دوست اور کاروبار کے لیے سازگار ملک بنانے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ترکی نے دوطرفہ اقتصادی تعاون اور طویل المدتی شراکت داری کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا ہے۔

    وزیراعظم نے چالک ہولڈنگ کے چیئرمین احمد چالک، البیراک گروپ کے چیئرمین احمد البیراک اور ترکی کی یونین آف چیمبرز اینڈ کموڈٹی ایکسچینجز کے صدر رفعت حصار سمیت بڑی صنعتی اور کاروباری تنظیموں کے اعلیٰ عہدیداران سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔

    ملاقاتوں میں تجارت، سرمایہ کاری اور مشترکہ منصوبوں کے فروغ پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

    شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کے مجموعی معاشی اشاریے مسلسل بہتر ہو رہے ہیں اور حکومت شفاف، قابلِ اعتماد اور کاروبار دوست سرمایہ کاری کا ماحول فراہم کر رہی ہے۔

    انھوں نے ترک کمپنیوں کو پاکستان کے ترجیحی شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھانے کی دعوت دی اور کہا کہ پاکستان میں توانائی، کان کنی، معدنیات، بنیادی ڈھانچے، بحری امور، رسد و ترسیل، معلوماتی ٹیکنالوجی، مواصلات، پیداواری صنعت، زراعت اور نجکاری سمیت متعدد شعبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں۔

  5. علی خامنہ ای کی نماز جنازہ اتوار کو صبح چھ بجے سے شروع ہو گی: ایرانی میڈیا

    ایرانی میڈیا میں بتایا جا رہا ہے کہ ایران کے سابق رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اتوار کو ادا کی جائے گی تاہم ابھی یہ نہیں بتایا گیا کہ نماز کون پڑھائے گا۔

    بی بی سی فارسی نے مقامی میڈیا کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ عوام کو ہفتے کے روز(آج) خامنہ ای کو 24 گھنٹے تک الوداع کہنے کی اجازت دی گئی تھی جبکہ اتوار کو خامنہ ای اور ان کے اہلِ خانہ کی نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد عوامی سطح پر علی خامنہ ای کی الوداعی تقریبات کا سلسلہ جاری رہے گا۔

    ایرانی میڈیا کی جانب سے شائع کیے گئے ایک اعلان کے مطابق علی خامنہ ای اور ان کے اہلِ خانہ کے لیے دعائیہ تقریب کل صبح چھ بجے تہران کی ایک مسجد میں منعقد کی جائے گی۔

    یاد رہے کہ جنگ کے آغاز کے بعد سے مجتبیٰ خامنہ ای کو عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا، جب ان کے والد اور خاندان کے متعدد افراد 40 روزہ جنگ کے پہلے روز مارے گئے تھے۔

    تہران میں ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای اور اُن کے اہلخانہ کی آخری رسومات جاری ہیں۔

    گذشتہ روز بین الاقوامی خراجِ عقیدت کی تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا جس میں دُنیا کے مختلف ممالک کے رہنماؤں اور وفود نے شرکت کی تھی۔

    متعلقہ حکام کے اعلان کردہ منصوبے کے مطابق آخری رسومات کی تقریبات کئی مراحل اور مسلسل کئی دنوں میں منعقد ہوں گی۔ اس حوالے سے بی بی سی نے ایک مفصل آرٹیکل ’ایران کے سابق رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کیسے ہوں گی، کہاں تدفین ہوگی اور نمازِ جنازہ کون پڑھائے گا؟‘ شائع کیا ہے جسے آپ یہاں کلک کر کے پڑھ سکتے ہیں۔

  6. آبنائے ہرمز خطے سے باہر کی قوتوں کی فوجی طاقت کے مظاہرے کا میدان نہیں: ایران

    ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز ’خطے سے باہر کی قوتوں کی فوجی طاقت کے مظاہرے کا میدان نہیں۔‘

    ان کا یہ بیان برطانوی وزیرِ اعظم کیئر سٹارمر اور فرانسیسی صدر ایمانوئل میکخواں کے اس مشترکہ بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس مِں کہا گیا ہے کہ دونوں ملک آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آزادانہ نقل و حرکت یقینی بنانے کے لیے کثیر الملکی فوجی مشن کی تعیناتی کی حمایت کے لیے تیار ہیں۔

    کاظم غریب آبادی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران ایک ذمہ دار طاقت اور آبنائے ہرمز کی سلامتی کا ضامن ہے اور اس آبی گزرگاہ میں کسی بھی فوجی نقل و حرکت کے بارے میں خبردار کرتا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی سلامتی کی ذمہ داری ساحلی ریاستوں پر عائد ہوتی ہے۔ ’بحران پیدا کرنے والوں کو اپنی مہم جوئی کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔ یہ ایک سنجیدہ انتباہ ہے۔‘

  7. ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ کے جنازے کی عوامی تقریب کے مناظر

    تہران میں ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای اور اُن کے اہلخانہ کی آخری رسومات جاری ہیں۔

    گذشتہ روز بین الاقوامی خراجِ عقیدت کی تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا جس میں دُنیا کے مختلف ممالک کے رہنماؤں اور وفود نے شرکت کی تھی۔

    پاکستان کی جانب سے وزیرِ اعظم شہباز شریف کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطح کے وفد نے تقریب میں شرکت کی تھی۔

    سنیچر کی صبح سے تہران کے بڑے مذہبی و ثقافتی مرکز ’امام خمینی مصلیٰ‘ میں دو روزہ عوامی الوداع کی تقریب کا آغاز ہو گیا ہے۔

    ایرانی حکام کو توقع ہے کہ ایران اور عراق مختلف شہروں میں چھ روز تک جاری رہنے والی آخری رسومات میں ڈیڑھ سے دو کروڑ افراد شرکت کریں گے۔

  8. ایران کو سابق رہبرِ اعلیٰ کی تدفین کے لیے ایک ہفتے کی مہلت دی ہے کیونکہ ہم اچھے لوگ ہیں: ڈونلڈ ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ واشنگٹن نے تہران کو ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کی تدفین کے لیے ایک ہفتے کی مہلت دی ہے ’کیونکہ ہم اچھے ہیں۔‘

    یاد رہے کہ ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں میں مارے گئے تھے۔

    جمعے کی رات ماؤنٹ رشمور میں امریکہ کے قیام کی 250ویں سالگرہ کی تقریبات کے آغاز کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران امریکہ کے ساتھ ’معاملات طے‘ کرنا چاہتا ہے۔

    انھوں نے دنیا میں اپنے امریکی فوجی برتری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’ہم نے ایک ہی دن میں وینزویلا کو شکست دی اور ایران کو بھی سخت نقصان پہنچایا۔ وہ معاہدہ کرنے کے لیے بے تاب ہیں، وہ بہت شدت سے اس ممعاملے کو سلجھانا کرنا چاہتے ہیں۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم نے انھیں تدفین کے لیے ایک ہفتہ دیا ہے کیونکہ ہم اچھے ہیں۔‘

  9. علی خامنہ ای کے جنازے کی عوامی تقریب کے دوران ’امریکہ مردہ باد‘ اور ’انتقام، انتقام‘ کے نعرے

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے ایک نامہ نگار کے مطابق ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے تابوت کی آمد سے قبل ہی تہران کے بڑے مذہبی و ثقافتی مرکز 'گرینڈ مصلیٰ' میں ہزاروں افراد جمع ہو گئے تھے۔

    اے ایف پی کے مطابق متعدد شرکا نے سرخ جھنڈے اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے۔ بی بی سی فارسی کے مطابق سرخ رنگ کو عموماً انتقام کے مطالبے کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق وہاں موجود افراد نے ’امریکہ مردہ باد‘ اور ’انتقام، انتقام‘ جیسے نعرے بھی لگائے۔

    ایران کے سرکاری ٹی وی نے اعلان کیا ہے کہ علی خامنہ ای کی چھ روزہ عوامی تقریبات کا آغاز سنیچر کی صبح سے ہو گیا ہے۔

  10. مالی سال 26-2025 میں پاکستان میں تنخواہ دار طبقے نے 630 ارب روپے سے زائد ٹیکس ادا کیا, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان میں مالی سال 26-2025 کے دوران تنخواہ دار طبقے نے اپنی آمدن پر تقریباً 633 ارب روپے انکم ٹیکس ادا کیا، جو برآمد کنندگان، رئیل اسٹیٹ کے شعبے اور ریٹیل کاروبار سے مجموعی طور پر وصول کیے گئے انکم ٹیکس سے زیادہ رہا۔

    فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 30 جون 2026 کو ختم ہونے والے مالی سال کے دوران مجموعی طور پر 13 ہزار 10 ارب روپے محصولات جمع کیے۔ ان میں تنخواہ دار طبقہ نمایاں ٹیکس دہندگان میں شامل رہا۔

    ایف بی آر کے ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق زیر جائزہ مالی سال میں تنخواہ دار طبقے نے 633 ارب روپے انکم ٹیکس ادا کیا، جبکہ گذشتہ مالی سال یہ رقم 585 ارب روپے تھی۔

    دوسری جانب برآمد کنندگان نے 30 جون کو ختم ہونے والے مالی سال میں 174 ارب روپے انکم ٹیکس ادا کیا، جبکہ اس سے پہلے کے مالی سال میں ان کی جانب سے 176 ارب روپے ٹیکس جمع کراویا گیا تھا۔

    رئیل اسٹیٹ کے شعبے سے ایف بی آر نے 191 ارب روپے ٹیکس وصول کیا۔ گذشتہ مالی سال ایف بی آر نے اس شعبے سے 118 ارب روپے ٹیکس وصول کیا تھا۔

    تفصیلات کے مطابق شق 236-G کے تحت مالی سال میں ریٹیلرز سے 25 ارب روپے وصول کیے گئے، جبکہ ایک سال قبل یہ وصولیاں 24 ارب روپے تھیں۔ اسی طرح شق 236-H کے تحت مالی سال 26-2025 میں 45 ارب روپے جمع کیے گئے جبکہ گذشتہ مالی سال یہ رقم 38 ارب روپے تھی۔

    پاکستان میں موجودہ مالی سال کے لیے 15264 ارب روپے کا ٹیکس وصولی کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اس سال بجٹ میں تنخواہ دار طبقے پر عائد ٹیکس کی شرح میں کچھ کمی کر کے ریلیف دیا گیا ہے جب کہ ریٹیلرز پر فکسڈ ٹیکس متعارف کروایا گیا ہے۔

  11. ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ کی آخری رسومات، آج سے عوامی الوداع کی تقریب کا آغاز

    ایران میں سابق رہبرِ اعلیٰ اور اُن کے اہلخانہ کی آخری رسومات جاری ہیں۔ تین جولائی (جمعے) کو بین الاقوامی خراجِ عقیدت کی تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا جس میں دُنیا کے مختلف ممالک کے رہنماؤں نے شرکت کی۔

    سنیچر (آج) سے تہران کے بڑے مذہبی و ثقافتی مرکز 'گرینڈ مصلیٰ' میں عوامی الوداع کی دو روزہ تقریب کا آغاز ہو گا۔

    چار جولائی کو مقامی وقت کے مطابق صبح 6 بجے دروازے کھولے جائیں گے اور پانچ جولائی کو رات آٹھ بجے بند کر دیے جائیں گے۔ مرکزی نمازِ جنازہ پانچ جولائی کی صبح ادا کی جائے گی۔

    خامنہ ای کے علاوہ، ان کی صاحبزادی بشریٰ حسینی خامنہ ای، بہو زہرا حداد عادل (مجتبیٰ خامنہ ای کی اہلیہ)، داماد مصباح الہدیٰ باقری اور نواسی زہرا محمدی کے تابوت بھی سوگواروں کے سامنے رکھے گئے ہیں۔

    چھ جولائی: تہران میں جنازے کا جلوس

    چھ جولائی کو تہران میں جنازے کا جلوس کا شروع ہو گا، یہ جلوس مقامی وقت کے مطابق صبح چھ شروع ہوگا۔ منتظمین نے دارالحکومت میں پھیلے ہوئے ایک راستے کا انتخاب کیا ہے کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ متوقع ہجوم کے لیے کوئی ایک سڑک کافی نہیں ہوگی۔ حکام کو امید ہے کہ یہ تقریب شام تک اختتام پذیر ہو جائے گی۔

    سات جولائی: قم میں جنازے کا جلوس

    یہ تقریب ایران کے مذہبی مرکز میں مقامی وقت کے مطابق صبح تقریباً پانچ بجے شروع ہو گی جس میں جمکران مسجد کے اندر ایک سینئر عالمِ دین نماز کی امامت کریں گے۔

    آٹھ جولائی: نجف اور کربلا میں جلوس

    عراق میں ایران کے ثقافتی اتاشی، غلام رضا اباذری نے بتایا کہ میت سات جولائی کی شام نجف پہنچے گی۔ میت کی ایران واپسی سے قبل، آٹھ جولائی کو نجف میں مقامی وقت کے مطابق صبح چھ بجے اور کربلا میں سہ پہر چار بجے جنازے کے جلوس نکالے جائیں گے۔

    نو جولائی: مشہد میں تدفین

    خامنہ ای کی تدفین شمال مشرقی شہر مشہد میں واقع شیعوں کے آٹھویں امام، امام رضا کے مزار پر کی جائے گی۔

  12. صدر ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کا ٹیلی فونک رابطہ، جلد ملاقات پر اتفاق

    اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کے ایک بیان کے مطابق وزیر اعظم نیتن یاہو اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو ٹیلی فونک گفتگو کے دوران مستقبل قریب میں امریکہ میں ملاقات کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

    اس گفتگو میں اسرائیلی وزیراعظم نے صدر ٹرمپ کو امریکہ کے قیام کی 250 ویں سالگرہ پر مبارکباد دی اور کہا کہ ’امریکہ دنیا میں آزادی کا ضامن ہے اور اسرائیل دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔‘

    اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’وزیراعظم نیتن یاہو اور صدر ٹرمپ نے جلد امریکہ میں ملاقات کرنے پر اتفاق کیا۔‘

  13. حوثی باغیوں کی سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حملوں کی دھمکی

    یمن کے حوثیوں کا کہنا ہے کہ ان کی افواج کا سامنا ’سعودی لڑاکا طیاروں‘ سے ہوا ہے جو مبینہ طور پر صنعا ہوائی اڈے پر ایرانی مسافر طیارے کو اترنے سے روکنے کی کوشش کر رہے تھے۔

    حوثی عسکری ترجمان یحییٰ سریع نے خبردار کیا کہ اگر سعودی عرب نے ’یمنی فضائی حدود کی خلاف ورزی‘ کا سلسلہ جاری رکھا تو ان کا گروہ ’سعودی ہوائی اڈوں اور خشکی و سمندر پر موجود اہم سعودی مفادات‘ کو نشانہ بنائے گا۔

    حوثی تحریک سے وابستہ ’المسیرہ ٹی وی‘ نے خبر دی ہے کہ جمعے کے روز صنعا میں ایک ایرانی طیارہ پہنچا، جو اسلامی جمہوریہ کے سابق رہنما علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے گروپ کے سرکاری وفد کو تہران لے جانے کے لیے آیا تھا۔ المسیرہ نے یہ بھی بتایا کہ طیارے میں 200 سے زائد مریض بھی سوار تھے۔

    سعودی قیادت والے اتحاد نے سنیچر کی صبح خبردار کیا کہ سعودی عرب کو نشانہ بنانے کی کسی بھی کوشش کا جواب ’فیصلہ کن انداز` اور ’بے مثال طاقت‘ کے ساتھ دیا جائے گا۔

    ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کے ہاتھوں صنعا پر قبضے کے بعد سے سعودی عرب 2015 سے یمنی جنگ میں مداخلت کرنے والے ایک عسکری اتحاد کی قیادت کر رہا ہے۔

  14. پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی

    پاکستان کی وفاقی حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں فی لیٹر ایک روپے 97 پیسے کمی کا اعلان کیا ہے۔

    پیٹرولیئم ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفیکیشن کے مطابق پیٹرول کی نئی قیمت297 روپے 53 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی نئی قیمت 309 روپے 50 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔

  15. بریکنگ, گوادر میں سکیورٹی فورسز کے کیمپ پر خودکش حملے میں تین اہلکار ہلاک: حکام

    بلوچستان کے ضلع گوادر میں حکام کے مطابق سکیورٹی فورسز کے ایک کیمپ پر خودکش حملے میں کم از کم تین سکیورٹی اہلکار ہلاک اور 15 زخمی ہوئے ہیں۔

    کوئٹہ میں ایک سینیئر سرکاری اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ حملہ جمعے کی شام تحصیل جیونی کے علاقے پانوان میں کیا گیا۔

    تاحال بلوچستان حکومت یا پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے اس حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔

    سرکاری اہلکار کے مطابق اس علاقے میں سکیورٹی فورسز کا ایک کیمپ ہے جس پر شام سات بجے ایک بارود سے بھری گاڑی کو ٹکرایا گیا۔

    ان کے مطابق دھماکے کی وجہ سے کیمپ کے بعض حصوں کو نقصان پہنچا اور دھماکے کی وجہ سے کم از کم تین اہلکار ہلاک اور 15 زخمی ہوگئے۔

    حکام کے مطابق واقعے کے بعد پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار جائے وقوعہ پر پہنچے اور وہاں سے زخمیوں کو طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کرنے کے علاوہ شواہد اکٹھے کیے گئے۔

    اس واقعے کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے قبول کی ہے۔

    پانوان بلوچستان کے ساحلی ضلع گوادر کی تحصیل جیونی کا حصہ ہے۔ یہ جیونی شہر سے دس کلومیٹر دور مغرب میں ایرانی سرحد کے قریب واقع ہے۔

    اس علاقے میں پہلے بھی سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں پر حملے ہوتے رہے ہیں۔

  16. آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کی تقریب میں افغان طالبان اور ان کے مخالفین کی شرکت

    ایران کے سابق آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کی تقریب میں طالبان حکومت کے نمائندوں کے ساتھ ساتھ ان کے سیاسی مخالفین نے بھی شرکت کی۔

    بی بی سی فارسی نے ایرانی میڈیا میں شائع ہونے والی تصاویر شیئر کی ہیں جن میں افغانستان کی نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کے سربراہ احمد مسعود اور حزبِ وحدتِ اسلامی افغانستان کے رہنما محمد محقق علی خامنہ ای اور ان کے خاندان کے چند دیگر افراد کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔

    دوسری جانب طالبان حکومت کے وفد نے بھی تہران میں منعقدہ تقریب میں شرکت کی۔ اس وفد کی قیادت طالبان کے نائب وزیرِ اعظم ملا عبدالغنی برادر اخوند اور وزیرِ خارجہ امیر خان متقی کر رہے تھے۔

  17. پاکستان میں سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ، فی تولہ نرخ 4 لاکھ 40 ہزار 936 روپے تک پہنچ گئے, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان میں جمعے کے روز سونے کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد 24 قیراط سونے کی فی تولہ قیمت 12 ہزار 200 روپے بڑھ کر 4 لاکھ 40 ہزار 936 روپے ہو گئی۔

    آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق 10 گرام سونے کی قیمت بھی 10 ہزار 459 روپے اضافے کے بعد 3 لاکھ 78 ہزار 31 روپے تک پہنچ گئی۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات مقامی مارکیٹ میں بھی دیکھنے میں آئے ہیں۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت 122 ڈالر اضافے کے بعد چار ہزار 185 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی۔

    عام طور پر پاکستان میں سونے کی مقامی قیمتوں کا تعین عالمی نرخوں کے مقابلے میں 20 ڈالر پریمیم شامل کر کے کیا جاتا ہے۔

    سونے کے شعبے کے ماہر احسن الیاس نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکی معیشت کے بعض شعبوں سے توقع سے کمزور معاشی اشاریے سامنے آنے کے بعد ڈالر کی قدر میں کمی دیکھی گئی۔ ان کے مطابق اس صورتحال کے نتیجے میں سرمایہ کاروں نے سونے کو محفوظ سرمایہ کاری سمجھتے ہوئے اس میں دلچسپی بڑھائی، جس سے عالمی سطح پر اس کی قیمت میں اضافہ ہوا۔ یہی رجحان پاکستان کی مقامی مارکیٹ پر بھی اثرانداز ہوا۔

    دوسری جانب چاندی کی قیمتوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ فی تولہ چاندی 319 روپے مہنگی ہو کر 6 ہزار 764 روپے کی سطح پر پہنچ گئی، جبکہ 10 گرام چاندی کی قیمت 274 روپے اضافے کے بعد 5 ہزار 764 روپے ہو گئی۔

  18. ایران علی خامنہ ای کے جنازے میں بین الاقوامی وفود کی شرکت سے کیا دکھانا چاہتا ہے؟

    ایران کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک سے کم از کم آٹھ سربراہانِ مملکت اور 12 پارلیمانوں کے سپیکرز علی خامنہ ای کی تدفین کی تقریب میں شرکت کریں گے، جبکہ متعدد ممالک وزرا اور خصوصی نمائندوں کی سطح پر بھی اپنے وفود بھیج رہے ہیں۔

    تقریب میں شرکت کے لیے عراق، تاجکستان اور جارجیا کے صدور کے علاوہ پاکستان اور آرمینیا کے وزرائے اعظم بھی تہران پہنچے۔

    بی بی سی فارسی سے بات کرتے ہوئے بین الاقوامی امور کے تجزیہ کار حبیب حسینی فرد کا کہنا تھا کہ ایران حکومت کو امید تھی کہ اس تقریب کے ذریعے وہ دنیا کے سامنے اپنی قانونی حیثیت‘کا مظاہرہ کر سکے گا۔

    تاہم ان کے بقول، تقریب میں شریک ممالک کی نوعیت اور یہ امر کہ بہت سے ممالک سے نسبتاً درمیانی سطح کے وفود کی شمولیت ظاہر کرتی ہے کہ ایران اس مقصد کے حصول میں زیادہ کامیاب نہیں رہا۔

    حبیب حسینی فرد کا مزید کہنا ہے کہ اگر ایران اس تقریب میں عوام کی نسبتاً بڑی تعداد کی شرکت دکھانے میں کامیاب ہوتا ہے تو وہ اسے اپنی قانونی حیثیت اور سیاسی قوت کے ثبوت کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔

  19. کینیا کی سپریم کورٹ نے ارشد شریف قتل کیس میں ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف فوجداری کارروائی کی درخواست مسترد کر دی

    کینیا کی سپریم کورٹ نے پاکستانی صحافی ارشد شریف کی ہلاکت کے ذمہ دار پولیس اہلکاروں کے خلاف فوجداری کارروائی کا حکم دینے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔

    عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا ہے کہ عدالتیں ڈائریکٹر آف پبلک پراسیکیوشنز کو یہ ہدایت نہیں دے سکتیں کہ وہ کب یا آیا کس کے خلاف فوجداری مقدمہ قائم کریں۔

    مقامی میڈیا میں شائع ہونے والی خبروں کے مطابق ارشد شریف کی اہلیہ جویریہ صدیقی، کینیا یونین آف جرنلسٹ اور کینیا کورسپانڈنٹس ایسوسی ایشن نے کینیا کے ایک ایپیلٹ کورٹ کے فیصلے کے کچھ حصوں کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

    اپیلٹ کورٹ نے ارشد شریف کی ہلاکت کے ذمہ دار افسران کے خلاف فوجداری مقدمے کے اندراج کا حکم دینے، ارشد شریف کی اہلیہ کو دی جانے والی ہرجانے کی رقم میں اضافے اور کینیا کی حکومت کو معافی مانگنے کا حکم دینے کی درخواست مسترد کر دی تھیں۔ جس کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا گیا تھا۔

    تاہم سپریم کورٹ نے نچلی عدالتوں کے اس فیصلے کی توثیق کی ہے کہ پولیس کی جانب سے بلاجواز فائرنگ کے نتیجے میں صحافی ارشد شریف کے آئینی حقِ زندگی کی خلاف ورزی ہوئی تھی۔

    عدالتی فیصلے پر ردِ عمل دیتے ہوئے جویریہ صدیقی کا کہنا ہے کہ کینیا کی سپریم کورٹ نے کینیا کی پولیس کے ہاتھوں ارشد شریف کا قتل حقِ زندگی کی غیر قانونی خلاف ورزی تو قرار دیا ہے ’تاہم عدالت نے نہ تو اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف مقدمہ چلانے کا حکم دیا ہے، نہ ہی معافی مانگنے کی ہدایت کی، اور نہ ہی اس قتل کو تشدد (ٹارچر) قرار دیا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ اس مقدمے میں اب تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی اور نہ ہی کسی کو جواب دہ ٹھہرایا گیا ہے۔

    ’میں نے یہ صورتِ حال پہلے پاکستان میں دیکھی اور اب کینیا میں دیکھ رہی ہوں۔ چار سال بعد ہمارے پاس عدالت کا ایک اعلامیہ تو ہے، لیکن انصاف اب بھی نہیں ملا۔ اب ایک بار پھر یہ معاملہ کورٹ آف اپیل میں پہنچ گیا ہے۔‘

    پاکستانی صحافی ارشد شریف 23 اکتوبر کی رات کینیا کے علاقے مگاڈی میں پولیس کی فائرنگ کے ایک واقعے میں ہلاک ہوئے تھے۔

  20. اسرائیلی اور امریکی حملوں میں ایران کی جوہری اور فوجی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصانات کی سیٹلائٹ تصاویر جاری

    حال ہی میں سیٹلائٹ تصاویر فراہم کرنے والی ایک کمپنی کی جانب سے ڈھائی لاکھ سے زائد ہائی ریزولوشن سیٹلائٹ تصاویر جاری کی گئی ہیں جن سے جنگ کے دوران ایران کی بعض فوجی اور جوہری تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان کی نوعیت اور حجم کا پہلی بار واضح اندازہ ہوتا ہے۔

    سیٹلائٹ تصاویر فراہم کرنے والی معروف کمپنی پلینٹ لیبز نے ایران کے تقریباً 800 مقامات کی تصاویر تک رسائی بحال کر دی ہے۔ نو مارچ کو امریکی حکومت کی درخواست کے بعد ان تصاویر تک رسائی محدود کر دی گئی تھیں۔

    بی بی سی ویریفائی نے ان سیٹلائٹ تصاویر کا تجزیہ کیا جن میں دو اہم مقامات اصفہان اور بوشہر شامل ہیں۔

    فوجی انٹیلی جنس کمپنی جینز کے مطابق تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ حملوں میں مختلف نوعیت کے اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جن میں گولہ بارود ذخیرہ کرنے کے اڈے، بیلسٹک میزائلوں کا بنیادی ڈھانچہ، جوہری تنصیبات، زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں کے مراکز اور بحری اڈے شامل ہیں۔

    اس سے قبل تصدیق شدہ ویڈیوز سے یہ بات سامنے آ چکی ہے کہ ان مقامات پر امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے حملے کیے گئے تھے۔ تاہم اب دستیاب ہونے والی نئی سیٹلائٹ تصاویر ان حملوں کے مخصوص اہداف اور ہونے والے نقصان کی نوعیت اور شدت کے بارے میں مزید تفصیلی معلومات فراہم کرتی ہیں۔

    بوشہر کے اطراف متعدد فوجی تنصیبات مکمل طور پر تباہ

    سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ نو مارچ کے بعد ساحلی شہر بوشہر کے اطراف واقع متعدد مقامات کو نقصان پہنچا ہے یا وہ مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔

    فوجی انٹیلی جنس کمپنی جینز کے مطابق متاثرہ تنصیبات میں فوجی اور سرکاری عمارتیں شامل ہیں، جن میں طیاروں کے ہینگر، گولہ بارود کے ذخائر، جہاز سازی و مرمت کے مراکز اور میزائل لانچ کرنے کے مقامات شامل ہیں۔ تصاویر سے ان مقامات پر واضح نقصان دیکھا جا سکتا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق متاثرہ تنصیبات کا تعلق ایرانی حکومت اور پاسدارانِ انقلاب دونوں سے ہے۔

    بعض ایسے علاقے جنھیں اوپن سٹریٹ میپ جیسے آن لائن نقشوں پر ’فوجی علاقے‘ کے طور پر دکھایا گیا ہے ان کی تقریباً تمام عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں۔

    اصفہان میں فوجی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصانات کی تفصیل

    ایران کے صوبہ اصفہان میں ایران کی دو جوہری تنصیبات واقع ہیں جن میں سے ایک اصفہان شہر جبکہ دوسری نطنز میں واقع ہے۔ سیٹلائٹ تصاویر اصفہان میں فوجی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان کی نوعیت اور شدت کو ظاہر کرتی ہیں۔

    علاقے میں واقع فوجی اڈوں کی عمارتوں کو پہنچنے والا نقصان واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ فوجی انٹیلی جنس کمپنی جینز کے مطابق، ایران کے شکاری ہشتم فضائی اڈے پر فضائیہ کے ایک گولہ بارود ذخیرہ کرنے والے مرکز کے طور پر شناخت کی جانے والی متعدد عمارتیں متاثر ہوئی ہیں۔

    اصفہان شہر کے جنوب میں واقع ایک فوجی اڈے پر 60 سے زیادہ ڈھانچوں کو شدید نقصان پہنچا ہے یا وہ مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔

    صوبے میں مزید جنوب کی جانب بہارستان کے نزدیک واقع ایک دوسرے فوجی اڈے پر بھی تقریباً ایک درجن تنصیبات کو نشانہ نقصان پہنچا ہے۔