حال ہی میں سیٹلائٹ تصاویر فراہم کرنے والی ایک کمپنی کی جانب سے ڈھائی لاکھ سے زائد ہائی ریزولوشن سیٹلائٹ تصاویر جاری کی گئی ہیں جن سے جنگ کے دوران ایران کی بعض فوجی اور جوہری تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان کی نوعیت اور حجم کا پہلی بار واضح اندازہ ہوتا ہے۔
سیٹلائٹ تصاویر فراہم کرنے والی معروف کمپنی پلینٹ لیبز نے ایران کے تقریباً 800 مقامات کی تصاویر تک رسائی بحال کر دی ہے۔ نو مارچ کو امریکی حکومت کی درخواست کے بعد ان تصاویر تک رسائی محدود کر دی گئی تھیں۔
بی بی سی ویریفائی نے ان سیٹلائٹ تصاویر کا تجزیہ کیا جن میں دو اہم مقامات اصفہان اور بوشہر شامل ہیں۔
فوجی انٹیلی جنس کمپنی جینز کے مطابق تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ حملوں میں مختلف نوعیت کے اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جن میں گولہ بارود ذخیرہ کرنے کے اڈے، بیلسٹک میزائلوں کا بنیادی ڈھانچہ، جوہری تنصیبات، زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں کے مراکز اور بحری اڈے شامل ہیں۔
اس سے قبل تصدیق شدہ ویڈیوز سے یہ بات سامنے آ چکی ہے کہ ان مقامات پر امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے حملے کیے گئے تھے۔ تاہم اب دستیاب ہونے والی نئی سیٹلائٹ تصاویر ان حملوں کے مخصوص اہداف اور ہونے والے نقصان کی نوعیت اور شدت کے بارے میں مزید تفصیلی معلومات فراہم کرتی ہیں۔
بوشہر کے اطراف متعدد فوجی تنصیبات مکمل طور پر تباہ
سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ نو مارچ کے بعد ساحلی شہر بوشہر کے اطراف واقع متعدد مقامات کو نقصان پہنچا ہے یا وہ مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔
فوجی انٹیلی جنس کمپنی جینز کے مطابق متاثرہ تنصیبات میں فوجی اور سرکاری عمارتیں شامل ہیں، جن میں طیاروں کے ہینگر، گولہ بارود کے ذخائر، جہاز سازی و مرمت کے مراکز اور میزائل لانچ کرنے کے مقامات شامل ہیں۔ تصاویر سے ان مقامات پر واضح نقصان دیکھا جا سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق متاثرہ تنصیبات کا تعلق ایرانی حکومت اور پاسدارانِ انقلاب دونوں سے ہے۔
بعض ایسے علاقے جنھیں اوپن سٹریٹ میپ جیسے آن لائن نقشوں پر ’فوجی علاقے‘ کے طور پر دکھایا گیا ہے ان کی تقریباً تمام عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں۔
اصفہان میں فوجی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصانات کی تفصیل
ایران کے صوبہ اصفہان میں ایران کی دو جوہری تنصیبات واقع ہیں جن میں سے ایک اصفہان شہر جبکہ دوسری نطنز میں واقع ہے۔ سیٹلائٹ تصاویر اصفہان میں فوجی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان کی نوعیت اور شدت کو ظاہر کرتی ہیں۔
علاقے میں واقع فوجی اڈوں کی عمارتوں کو پہنچنے والا نقصان واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ فوجی انٹیلی جنس کمپنی جینز کے مطابق، ایران کے شکاری ہشتم فضائی اڈے پر فضائیہ کے ایک گولہ بارود ذخیرہ کرنے والے مرکز کے طور پر شناخت کی جانے والی متعدد عمارتیں متاثر ہوئی ہیں۔
اصفہان شہر کے جنوب میں واقع ایک فوجی اڈے پر 60 سے زیادہ ڈھانچوں کو شدید نقصان پہنچا ہے یا وہ مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔
صوبے میں مزید جنوب کی جانب بہارستان کے نزدیک واقع ایک دوسرے فوجی اڈے پر بھی تقریباً ایک درجن تنصیبات کو نشانہ نقصان پہنچا ہے۔