اقوامِ متحدہ کی طرف سے تشکیل دیے گئے تحقیقاتی کمیشن کا کہنا ہے کہ اسرائیل غزہ میں فلسطینی بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنا رہا ہے، جس کے باعث نسل کشی، انسانیت کے خلاف جرائم اور جنگی جرائم جیسے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔ کمیشن کے مطابق ایسے ہی اقدامات مقبوضہ مغربی کنارے میں بھی دیکھے گئے ہیں۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیلی فورسز نے جان بوجھ کر ایسے حملے کیے جن سے بڑی تعداد میں فلسطینی بچوں کی ہلاکت اور شدید جسمانی و ذہنی نقصان ہوا، اور یہ سلسلہ گذشتہ برس ہونے والی جنگ بندی کے بعد بھی جاری رہا۔
کمیشن کا کہنا ہے کہ اس کے پاس ایسے شواہد موجود ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ یہ کارروائیاں ایک منظم حکمت عملی کا حصہ ہیں، جس کا مقصد فلسطینیوں کے مستقبل کو ان کے بچوں کو نشانہ بنا کر کمزور کرنا ہے۔
اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے 2021 میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں اور اسرائیل کے حوالے سے مبینہ بین الاقوامی انسانی قانون اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کے لیے ایک آزاد بین الاقوامی کمیشن آف انکوائری قائم کیا تھا۔
یہ تین رکنی ماہرین پر مشتمل پینل باضابطہ طور پر اقوامِ متحدہ کی نمائندگی نہیں کرتا۔
دوسری جانب اسرائیل نے ان الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے رپورٹ کو بے بنیاد، جانبدار اور پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔
یہ صورتحال 7 اکتوبر 2023 کے اس حملے کے بعد سامنے آئی، جس میں حماس کی قیادت میں جنوبی اسرائیل پر حملہ کیا گیا تھا اور تقریباً 1200 افراد ہلاک جبکہ 251 کو یرغمال بنایا گیا تھا۔
غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق اس کے بعد سے اب تک 73 ہزار سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں بڑی تعداد بچوں کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حملوں میں رہائشی عمارتیں، سکول اور پناہ گاہیں بھی نشانہ بنیں، جبکہ بچوں کو گرفتار کرنے، تشدد کا نشانہ بنانے اور طبی سہولیات تک رسائی محدود کرنے کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔
اسرائیل کا مؤقف ہے کہ اس کی کارروائیاں دفاع کے تحت ہیں، جن کا مقصد حماس کا خاتمہ اور یرغمالیوں کی رہائی ہے، اور وہ شہریوں کے تحفظ کے لیے ممکنہ اقدامات کر رہا ہے۔
یہ معاملہ اس وقت عالمی عدالتِ انصاف میں بھی زیرِ سماعت ہے، تاہم اس کے حتمی فیصلے میں وقت لگ سکتا ہے۔
گذشتہ ستمبر میں کمیشن نے اسرائیل پر غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی (جینوسائیڈ) کرنے کا الزام عائد کیا۔ ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ معقول بنیادیں موجود ہیں کہ 1948 کے جینوسائیڈ کنونشن میں بیان کردہ پانچ میں سے چار اقدامات اسرائیلی حکام اور سکیورٹی فورسز کی جانب سے کیے گئے ہیں۔ اسرائیل نے اس رپورٹ کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے مسخ شدہ اور بے بنیاد قرار دیا۔
کمیشن اس سے قبل یہ نتیجہ بھی اخذ کر چکا ہے کہ 7 اکتوبر 2023 کو حماس اور دیگر فلسطینی مسلح گروہوں نے جنگی جرائم اور بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزیاں کیں، جبکہ اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے بھی غزہ میں انسانیت کے خلاف جرائم اور جنگی جرائم کا ارتکاب کیا۔
گذشتہ اکتوبر میں اسرائیل اور حماس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگ کے خاتمے کے منصوبے کے تحت جنگ بندی پر اتفاق کیا۔
اس کے بعد دونوں فریق ایک دوسرے پر بار بار جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔ غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق 1,020 سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں 265 بچے شامل ہیں۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ چار فوجی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔
منگل کے روز کمیشن نے ایک بیان میں کہا کہ غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کی ’شدید پیمانے اور منظم نوعیت‘ جاری رہی، جس کے نتیجے میں فلسطینی بچوں کی ’بے مثال ہلاکتیں، زخمی ہونا اور ذہنی صدمات‘ سامنے آئے۔
کمیشن کے سربراہ انڈین قانون دان سرینیواسن مرلی دھر نے کہا کہ ’اکتوبر 2025 کی جنگ بندی کے بعد بھی بچوں کی ہلاکتیں اور شدید زخمی ہونا جاری ہے، اور اسرائیل جنگ بندی اور بین الاقوامی قانون کے تحت فلسطینی بچوں کو فراہم کیے جانے والے تحفظ کو نظر انداز کر رہا ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ فلسطینی بچوں کا تحفظ، نگہداشت اور بقا فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت سے جدا نہیں ہے۔ بچوں کو نشانہ بنا کر اسرائیل دراصل فلسطینی قوم کی بقا اور ان کے مستقبل کے تعین کی صلاحیت پر حملہ کر رہا ہے۔
کمیشن کی نئی رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے غزہ میں فلسطینی بچوں کو براہِ راست نشانہ بنایا، جس میں اہم اعضا پر فائرنگ، جیسے کواڈ کاپٹر ڈرونز اور سنائپرز کا استعمال، اور رہائشی عمارتوں، سکولوں اور بے گھر افراد کے کیمپوں پر بھاری ہتھیاروں سے حملے شامل ہیں جہاں بڑی تعداد میں بچے موجود تھے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل مغربی کنارے میں بھی فلسطینی بچوں کو اسرائیلی فوج اور آبادکاروں کے حملوں سے محفوظ رکھنے میں ناکام رہا ہے، جس کی قانونی ذمہ داری اسی پر عائد ہوتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق غزہ اور مغربی کنارے میں بچوں، خصوصاً نوعمر لڑکوں کو ’گرفتار، تشدد کا نشانہ اور بدسلوکی‘ کا سامنا کرنا پڑا ہے، جبکہ ’جنسی اور صنفی بنیاد پر تشدد‘ کے واقعات بھی ریکارڈ کیے گئے ہیں، جو عموماً گرفتاری یا حراست کے دوران پیش آئے۔
غزہ میں نوزائیدہ اور بچوں کے ہسپتالوں پر اسرائیلی حملوں نے ’بچوں کی زندگی بچانے والی سہولیات کو منظم انداز میں تباہ کر دیا‘، جس سے ان کی بقا خطرے میں پڑ گئی ہے۔
رپورٹ اسرائیل پر یہ الزام بھی عائد کرتی ہے کہ اس نے بھوک کو جنگی حربے کے طور پر استعمال کیا، اور انسانی امداد کی آمد پر پابندیوں کے باعث بچوں میں شدید غذائی قلت پیدا ہوئی، جس سے ان کی بقا کے بنیادی حالات متاثر ہوئے۔
مزید یہ کہ سکولوں پر حملے، بڑے پیمانے پر بے دخلی اور تعلیمی اداروں کی بندش کے ذریعے اسرائیلی حکام نے ’بچوں کی تعلیم حاصل کرنے کی صلاحیت کو منظم طریقے سے متاثر کیا‘، جس سے فلسطینی معاشرے کی فکری اور سماجی بنیادیں کمزور ہو رہی ہیں۔
اسرائیلی وزارتِ خارجہ نے اس رپورٹ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کمیشن ایک ’بنیادی طور پر ناقص نظام‘ ہے جس کا مقصد سچائی کی تلاش کے بجائے اسرائیل کو نشانہ بنانا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ ’یہ رپورٹ اسرائیلی بچوں کو مکمل طور پر نظر انداز کرتی ہے جنھیں حماس نے قتل کیا، اغوا کیا اور نشانہ بنایا، جبکہ حماس کی جانب سے فلسطینی بچوں کو بطور انسانی ڈھال استعمال کرنے کے معاملے کو بھی نظر انداز کیا گیا ہے۔‘
اسرائیل نے کمیشن پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ اس کے پاس اپنے دعوؤں کی تصدیق کا کوئی قابلِ اعتماد طریقہ موجود نہیں ہے۔
اسرائیلی قیادت مسلسل نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتی رہی ہے، اور کہتی ہے کہ غزہ میں اس کی فوجی کارروائیاں اپنے دفاع، حماس اور دیگر مسلح گروہوں کو ختم کرنے، اور اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کی جا رہی ہیں۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ اسرائیلی افواج بین الاقوامی قانون کے مطابق کارروائی کرتی ہیں اور شہریوں کو نقصان سے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرتی ہیں۔
اس وقت بین الاقوامی عدالتِ انصاف جنوبی افریقہ کی جانب سے دائر کردہ ایک مقدمہ سن رہی ہے، جس میں اسرائیلی افواج پر نسل کشی کا الزام ہے، تاہم اس فیصلے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔ اسرائیل نے اس مقدمے کو ’بالکل بے بنیاد‘ اور ’متعصب و جھوٹے دعوؤں‘ پر مبنی قرار دیا ہے۔