میسی، میراڈونا یا پیلے: فٹبال کا سب سے بڑا کھلاڑی کون؟

    • مصنف, گیولیا گرانچی
    • عہدہ, بی بی سی نیوز برازیل
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 8 منٹ

لیونل میسی اپنے کیریئر کا تیسرا ورلڈ کپ فائنل کھیلنے جا رہے ہیں۔

ایسے میں یہ مانوس سا سوال دوبارہ سامنے آ رہا ہے: کیا ارجنٹائن کے یہ سپر سٹار تاریخ کے عظیم ترین فٹبالر ہیں؟ کیا وہ اپنے ہم وطن ڈیاگو میراڈونا اور برازیل کے پیلے سے آگے نکل گئے ہیں؟

39 سال کی عمر میں بھی میسی 2026 کے ورلڈ کپ میں ارجنٹائن کے لیے ایک مرکزی کردار برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ میسی میں اب اپنی جوانی کے دنوں والی بات نہیں رہی، لیکن وہ اب بھی اپنی بصیرت، پوزیشننگ اور فیصلہ سازی کے ذریعے میچوں کا رخ متعین کرتے ہیں اور اکثر میدان میں کوچ کا کردار ادا کرتے نظر آتے ہیں۔

لیکن کیا وہ اپنے حریفوں سے آگے نکل چکے ہیں؟

میسی کے حق میں دلائل

فٹبال کی تاریخ کی درجہ بندی میں میسی کو سب سے اوپر رکھنے والے لوگ عموماً دو خصوصیات کی طرف اشارہ کرتے ہیں: طویل عرصے تک اعلیٰ معیار برقرار رکھنا اور مسلسل کارکردگی دکھانا۔

بہت سے عظیم کھلاڑیوں کے برعکس، جن کا عروج نسبتاً مختصر عرصے تک رہا، میسی کا شمار تقریباً دو دہائیوں سے دنیا کے بہترین کھلاڑیوں میں ہو رہا ہے۔

اس عرصے کے دوران انھوں نے ریکارڈ آٹھ بیلون ڈیور ایوارڈز، سپین اور فرانس میں لیگ ٹائٹلز، چیمپئنز لیگ ٹرافیاں، کوپا امریکہ اور قطر میں 2022 کا ورلڈ کپ جیتا، جبکہ گول کرنے اور گول کرنے میں معاونت فراہم کرنے (اسسٹ) کے شاندار ریکارڈ بھی قائم کیے۔

میسی کے حامی ان کی مختلف ماحول میں کامیابی حاصل کرنے کی صلاحیت کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں، چاہے وہ یورپ میں بارسلونا کی بالادستی ہو یا بین الاقوامی سطح پر ارجنٹائن کی واپسی۔

میسی کے حامیوں کے نزدیک صلاحیت، مستقل مزاجی اور طویل مدت تک کامیابی کا امتزاج انھیں تاریخ کے ہر دوسرے کھلاڑی سے ممتاز بناتا ہے۔

فرانسیسی سٹرائیکر تھیری ہنری بھی بارسلونا فٹبال کلب کے اپنے سابق ساتھی میں مقابلہ کرنے کی غیر معمولی صلاحیت کی نشاندہی کرتے ہیں۔

ہسپانوی اخبار مارکا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ہنری نے کاتالان کلب میں اپنے ٹریننگ سیشنز کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ میسی کا رویہ تبدیل کرنے کے لیے بس اتنا کافی ہوتا تھا کہ انھیں محسوس ہو جائے کہ ان کے ساتھ غلط ہوا ہے۔

فرانسیسی کھلاڑی نے اپنی بات کا خلاصہ ان الفاظ میں کیا: ’سوئے ہوئے شیر کو نہ جگاؤ۔‘

انھوں نے ایسے واقعات یاد کیے جن میں ارجنٹائنی کھلاڑی کو لگتا تھا کہ ریفری نے فاؤل نہیں دیا، جس کے بعد وہ تھوڑے ہی وقت میں کئی گول کر دیتے تھا۔

میراڈونا کا سایہ

ارجنٹائن میں روایتی طور پر موازنے کے لیے توجہ پیلے یا دیگر عالمی ستاروں پر کم اور 1986 میں قومی ٹیم کو ورلڈ کپ جتوانے والے کپتان ڈیاگو میراڈونا پر زیادہ رہی ہے۔

میراڈونا کا اثر فٹبال سے کہیں آگے تک پھیلا ہوا تھا۔ بہت سے ارجنٹائنیوں کے لیے وہ قومی شناخت کی علامت بن گئے تھے۔

میسی کے نمایاں سوانح نگاروں میں سے ایک اور ہسپانوی صحافی گیلیم بالاگے نے بی بی سی نیوز برازیل کو بتایا: ’میراڈونا ارجنٹائن کے بادشاہ تھے۔ بادشاہ کا انتخاب نہیں کیا جاتا، وہ تو بس ملک کی نمائندگی کرتا ہے۔‘

کئی برسوں تک بعض ارجنٹائنی میسی کی صلاحیتوں کے تو معترف تھے، لیکن پھر بھی میراڈونا کو زیادہ مستند قومی شخصیت سمجھتے تھے۔

غربت میں پرورش پانے والے میراڈونا، جو 2020 میں وفات پا گئے، کھلے عام اختیار کو چیلنج کرتے تھے، سیاست میں حصہ لیتے تھے اور بغاوت اور کرشمے پر مبنی ایک ایسی شبیہ بناتے تھے کہ بہت سے لوگ خود کو اس سے وابستہ محسوس کرتے تھے۔

اس کے برعکس، میسی نے بالکل مختلف راستہ اختیار کیا۔ میدان سے باہر محتاط طبیعت، سیاسی مسائل پر گفتگو سے گریز اور تقریباً مکمل توجہ فٹبال پر۔

یہی وجہ ہے کہ میسی کے کیریئر کے دوران لوگوں کی تمام تر توجہ ان کے کھیل پر ہی رہی ہے۔

میسی نے لوگوں کی رائے کیسے بدلی

میسی کے بارے میں لوگوں کے رویوں میں تبدیلی اس وقت آنا شروع ہوئی جب ارجنٹائن نے 2021 میں کوپا امریکہ جیت کر بڑے بین الاقوامی ٹائٹل کے لیے 28 سالہ انتظار ختم کیا۔

یہ تبدیلی 2022 کے ورلڈ کپ کے دوران مزید تیز ہو گئی، جہاں میسی نے ارجنٹائن کو تیسرا عالمی ٹائٹل دلانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

اس ٹورنامنٹ کے دوران میسی نے اپنی شخصیت کا زیادہ جذباتی اور جارحانہ پہلو دکھایا اور ایسی قیادت دکھائی جسے بہت سے شائقین روایتی طور پر میراڈونا سے منسوب کرتے تھے۔

بالاگے کہتے ہیں: ’انھوں نے اپنی شخصیت کے نئے پہلو ظاہر کیے۔ لوگ انھیں ٹیم کے جنرل کے طور پر دیکھنے لگے۔‘

بہت سے ارجنٹائنیوں کے لیے ان لمحات نے اس جذباتی فاصلے کو کم کرنے میں مدد دی جو میسی اور ان کے پیش رو کے درمیان موجود تھا۔

اس کے باوجود بالاگے کا خیال ہے کہ یہ بحث مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔

وہ کہتے ہیں: ’آج میسی ایک فٹبالر کے طور پر میراڈونا سے آگے نکل چکے ہیں۔ لیکن ہمیشہ کچھ ارجنٹائنی ایسے رہیں گے جو محسوس کریں گے کہ میراڈونا ان کی بہتر نمائندگی کرتے ہیں۔‘

پیلے کے حق میں دلیل

بعض تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ میسی نہ صرف اپنے ہم وطن میراڈونا بلکہ ’فٹبال کا بادشاہ‘ کہلانے والے اور 2022 میں وفات پانے والے برازیل کے لیجنڈ پیلے سے بھی آگے نکل چکے ہیں۔

پیلے اب بھی واحد کھلاڑی ہیں جنھوں نے تین ورلڈ کپ جیتے اور اپنی ٹیم کو 1958، 1962 اور 1970 میں ٹرافی دلانے میں مدد کی۔

2018 میں برازیلی اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں پیلے نے کہا تھا کہ میراڈونا ’میسی سے کہیں بہتر کھلاڑی‘ تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ میسی اپنے بائیں پاؤں پر ضرورت سے زیادہ انحصار کرتے ہیں اور بعض دیگر عظیم فٹبالرز جیسی ہمہ جہت صلاحیت نہیں رکھتے۔

1970 کی دہائی میں عروج پانے والے جرمن اور ڈچ فٹبالرز کا حوالے دیتے ہوئے پیلے نے کہا تھا: ’فرانز بیکن باؤر اور یوہان کروئف بھی بہتر ہیں۔‘

برازیل کے سابق بین الاقوامی کھلاڑی توسٹاؤ کی رائے مختلف تھی۔ 2021 میں انھوں نے کہا کہ میسی میراڈونا سے آگے نکل چکے ہیں، لیکن اب بھی برازیلی لیجنڈ سے پیچھے ہیں۔

توسٹاؤ نے کہا: ’پیلے کے بعد میسی تاریخ کے بہترین کھلاڑی ہیں۔ وہ میراڈونا سے زیادہ مکمل کھلاڑی ہیں اور ان کا کیریئر بھی زیادہ طویل رہا۔ پیلے اور میسی کے درمیان فرق جسمانی صلاحیت کا ہے۔ پیلے زیادہ طاقتور تھے اور بڑے ایتھلیٹ تھے۔‘

خود پیلے کا کہنا تھا کہ ان کی مہارتوں کا موازنہ میسی سے نہیں کیا جا سکتا۔

اخبار کو انٹرویو میں ان کا کہنا تھا: ’دائیں اور بائیں پاؤں کے ساتھ ساتھ سر کا استعمال کرتے ہوئے بال کو گول تک پہنچانے والے کھلاڑی کا موازنہ کسی ایسے کھلاڑی سے ہو بھی کیسے سکتا ہے جو صرف ایک ہی ٹانگ سے شاٹ مارتا ہو اور سر کا استعمال بھی نہ کرتا ہو۔‘

پیلے نے کہا تھا کہ ان کا موازنہ کسی ایسے شخص سے کیا جائے جو بائیں پاؤں سے بھی اچھا کھیلتا ہو، دائیں پاؤں سے بھی اور سر سے بھی۔

اعداد و شمار سے بڑھ کر

یہ اختلاف ایک بڑے مسئلے کی نشاندہی کرتا ہے۔ اگر عظمت کا تعین صرف اعداد و شمار کی بنیاد پر ہوتا تو شاید یہ بحث اب تک ختم ہو چکی ہوتی۔

انفرادی اور اجتماعی اعزازات کے حوالے سے مختلف زمروں میں میسی کا ریکارڈ بے مثال ہے۔

مگر صرف اعداد و شمار اس بات کی مکمل وضاحت نہیں کر سکتے کہ فٹبال کے عظیم ترین کھلاڑیوں کے درمیان موازنہ اتنا متنازع کیوں رہتا ہے۔

اس بحث کو ایک سادہ حقیقت مزید پیچیدہ بناتی ہے: پیلے، میراڈونا اور میسی نے بالکل مختلف ادوار میں فٹبال کھیلا۔

جب پیلے نے 1958 میں اپنا پہلا ورلڈ کپ جیتا، اس وقت فٹبال میں جدید سپورٹس سائنس، عالمی سطح کی ٹیلی ویژن کوریج اور جدید ٹیکنالوجی موجود

نہیں تھی۔

1980 کی دہائی میں میراڈونا کے دور تک اس کھیل کو عالمی سطح پر پذیرائی مل چکی تھی۔ لیکن پھر اس وقت تک یہ کھیل آج کی کھربوں ڈالر کی صنعت سے بہت مختلف تھا۔

میسی نے اپنے تقریباً پورے کیریئر کے دوران ایسے ماحول میں کھیل کھیلا ہے جو کارکردگی کے تجزیوں، جدید طبی معاونت اور مسلسل میڈیا نگرانی سے تشکیل پایا ہے۔ دنیا بھر کے کوچز، ماہرین اور شائقین ہر میچ کا حقیقی وقت میں تجزیہ کرتے ہیں۔

نتیجتاً مختلف ادوار میں کھیلنے والے کھلاڑیوں کا موازنہ کرنا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔

برازیل کے سابق سٹرائیکر رونالڈو، جو میسی کو ’جینیئس‘ قرار دے چکے ہیں، کا کہنا ہے کہ عظیم ترین کھلاڑی کا تعین اس پیمانے پر منحصر ہے جو استعمال کیا جا رہا ہو۔

انھوں نے پوچھا: ’کوئی پیمانہ مقرر کیے بغیر عظیم ترین کھلاڑی کا انتخاب کیا بھی کیسے جا سکتا ہے؟‘

یہ بات یقینی طور پر درست ہے کہ پیلے، میراڈونا اور میسی کے کیریئر بالکل مختلف دنیاؤں میں پروان چڑھے۔

پیلے نے فٹبال کو حقیقی معنوں میں عالمی کھیل بنانے میں مدد دی۔ میراڈونا ارجنٹائن کی تاریخ کے ایک ہنگامہ خیز دور میں کھیل، سیاست اور ثقافت کے آئیکون بن کر ابھرے۔ میسی نے عالم گیریت، سپورٹس سائنس اور مسلسل میڈیا توجہ سے تشکیل پانے والے دور میں اپنی میراث قائم کی۔

یہ تینوں کھلاڑی ایسے کھیل میں مقابلہ کرتے رہے جو گہری تبدیلیوں سے گزرا ہے۔ انھیں مکمل طور پر مختلف حالات، شیڈولز، چیلنجز اور توقعات کا سامنا تھا۔ بالآخر کسی بھی فیصلے کا انحصار اس بات پر ہے کہ آپ کے نزدیک سب سے زیادہ اہم کیا ہے: صلاحیت، کامیابیاں، اثر و رسوخ، طویل المدتی کارکردگی یا ثقافتی اثرات۔

یہی وجہ ہے کہ اس بحث کے ختم ہونے کا امکان کم ہے اور دنیائے فٹبال کی یہ عظیم ترین بحث نسل در نسل جاری رہتی ہے۔