صحافت سے 10 ڈاؤننگ سٹریٹ تک: برطانیہ کے اگلے وزیراعظم اینڈی برنہم کون ہیں؟

EPA

،تصویر کا ذریعہEPA

    • مصنف, بیکی مورٹن، برائن ویلر
    • عہدہ, بی بی سی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 9 منٹ

برطانیہ کی حکمران جماعت لیبر پارٹی نے رُکن پارلیمان اور گریٹر مانچسٹر کے سابق میئر اینڈی برنہم کو اپنا نیا سربراہ منتخب کر لیا ہے۔ وہ وزیرِ اعظم کیئر سٹارمر کی جگہ اب برطانیہ کے نئے وزیرِ اعظم بنیں گے۔

جمعے کو لیبر پارٹی کی کانفرنس کے دوران وزیرِ داخلہ شبانہ محمود نے اینڈی برنہم کے لیبر پارٹی کا بلامقابلہ نیا رہنما منتخب ہونے کی تصدیق کی۔

لیبر پارٹی کا سربراہ منتخب ہونے کے بعد اپنے خطاب میں برنہم کا کہنا تھا کہ لیبر پارٹی کو اب یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ سیاستدانوں کی یہ نسل سیاسی کلچر اور معاشی ماڈل کو چیلنج کرنے میں ناکام رہی ہے جو عام لوگوں کے لیے زیادہ قابلِ عمل نہیں ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ اب ہم اسے بہتر کرنے کا عہد کرتے ہیں اور پارٹی کو آگے بڑھانے کے اعزاز کو قبول کرتے ہیں۔

برنہم کا کہنا تھا کہ وہ ’ون لیبر‘ ٹیم کا کلچر بنانے کے لیے انتھک محنت کریں گے اور برطانیہ کو نئی راہ پر لے جانے کی کوشش کریں گے۔

برنہم نے اس موقع پر اپنی پانچ ترجیحات پیش کیں اور کہا کہ وہ شمال، جنوب، مشرق اور مغرب، سکاٹ لینڈ، ویلز اور شمالی آئر لینڈ سب کے رہنما ہوں گے۔

اینڈی وزیرِ اعظم کیئر سٹارمر کی جگہ اب برطانیہ کے نئے وزیرِ اعظم بنیں گے۔

،تصویر کا ذریعہUK Pool

،تصویر کا کیپشناینڈی وزیرِ اعظم کیئر سٹارمر کی جگہ اب برطانیہ کے نئے وزیرِ اعظم بنیں گے۔

10 ڈاؤننگ سٹریٹ جانے والے پہلے ’اینڈی‘

وہ برطانوی وزیرِ اعظم کی رہائش گاہ 10 ڈاؤننگ سٹریٹ میں رہائش اختیار کرنے والے پہلے اینڈریو نہیں ہوں گے، کیونکہ اس سے پہلے اینڈریو بونار لا 1922 میں وہاں پہنچے تھے۔

لیکن وہ پہلے اینڈی ہوں گے۔

ان کی سیاسی شناخت دوستانہ اور قابلِ رسائی شخصیت کے گرد گھومتی ہے، اور ’ووٹ اینڈی‘ کا نعرہ انھیں برسوں کے دوران انتخابات میں خاصی کامیابی دلا چکا ہے۔

وہ 1960 اور 1970 کی دہائیوں میں ہیرالڈ ولسن کے بعد خود کو شمالی انگلینڈ کا باشندہ قرار دینے والے پہلے وزیرِ اعظم بھی ہوں گے۔

ان کے بعد آنے والے کچھ وزرائے اعظم کی جڑیں شمالی انگلینڈ میں رہی ہوں گی، لیکن کسی نے بھی اسے اپنی سیاسی کشش کا اتنا بنیادی حصہ نہیں بنایا جتنا برنہم نے بنایا ہے۔

’کنگ آف دی نارتھ‘

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

انھیں ’کنگ آف دی نارتھ‘ کا لقب بھی حاصل ہے، جو انھوں نے 2020 میں ایک کھلے میدان میں حکومت کو للکارتے ہوئے تقریر کرنے کے بعد حاصل کیا، جس میں انھوں نے کہا تھا کہ گریٹر مانچسٹر مزید کووڈ پابندیاں قبول نہیں کرے گا۔

تاہم 56 سالہ برنہم نے اپنی طویل سیاسی زندگی کا آغاز ویسٹ منسٹر کے ایک روایتی اندرونی سیاسی کردار کے طور پر کیا تھا اور اگرچہ اس مرتبہ انھیں رکنِ پارلیمان بنے ایک ماہ سے بھی کم عرصہ ہوا ہے، لیکن اقتدار تک ان کا سفر کئی دہائیوں پر محیط ہے۔

اُنھوں نے پہلی بار 2010 میں لیبر پارٹی کی قیادت کے لیے انتخاب لڑا اور پھر 2015 میں دوبارہ اس کے لیے میدان میں اُترے اور جیریمی کوربن سے بہت پیچھے دوسرے نمبر پر رہے۔

اگراُنھوں نے 2017 میں گریٹر مانچسٹر کے پہلے میئر کے طور پر انتخاب لڑنے کا خطرہ مول نہ لیا ہوتا تو شاید وہ سیاسی تاریخ میں ایک معمولی حوالہ بن کر رہ جاتے۔

علاقائی میئرز کا تصور اُس وقت آزمایا نہیں گیا تھا، لیکن برنہم نے اس عہدے کو اپنی شناخت بنا لیا اور اسے ایک مضبوط سیاسی پلیٹ فارم میں تبدیل کیا جو ان کی نظر میں ویسٹ منسٹر کی روایتی اور محدود سیاست سے الگ ایک نئی طرزِ حکمرانی کی نمائندگی کرتا تھا۔

انھیں ’کنگ آف دی نارتھ‘ کا لقب بھی حاصل ہے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنانھیں 'کنگ آف دی نارتھ' کا لقب بھی حاصل ہے

ابتدائی زندگی: ایورٹن کے مداح اور انڈی موسیقی کے شوقین

1970 میں لیورپول میں پیدا ہونے والے برنہم کی پرورش وارنگٹن کے قریب چیشائر کے ایک پُرسکون کمیوٹر گاؤں کلچتھ میں ہوئی۔

ان کے والد انجینیئر تھے جبکہ والدہ ایک ریسپشنسٹ تھیں۔ دونوں لیبر پارٹی کے مضبوط حامی تھے اور برنہم کو کم عمری میں ہی سیاست میں دلچسپی پیدا ہو گئی۔

برنہم نے ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ 14 سال کی عمر میں بی بی سی کے ٹی وی ڈرامے ’بوائز فرام دا بلیک سٹف‘ سے متاثر ہو کر لیبر پارٹی میں شامل ہوئے، جو لیورپول میں بے روزگاری کے دوران زندگی پر مبنی تھا۔

ایورٹن فٹبال کلب کے عمر بھر کے مداح برنہم کے دوست انھیں بچپن سے ہی ایک جوشیلے، مقابلہ پسند اور کھیلوں کے بے حد دلدادہ بچے کے طور پر یاد کرتے ہیں۔ وہ نہ صرف کھیلوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے بلکہ لنکا شائر سکول بوائز کرکٹ ٹیم کے لیے فاسٹ بولر کی حیثیت سے بھی کھیل چکے ہیں۔

اپنے سکول، جو مقامی رومن کیتھولک سکول تھا، میں ان کے انگریزی کے استاد کو یاد ہے کہ وہ فرضی انتخابات میں لیبر امیدوار بنے تھے اور بھاری اکثریت سے جیتے تھے۔

برنہم اور ان کے دو بھائی اپنے خاندان میں یونیورسٹی جانے والے پہلے افراد تھے اور اینڈی نے کیمبرج میں انگریزی ادب کی تعلیم حاصل کی۔

اپنی کتاب ’ہیڈ نارتھ‘ میں برنہم نے لکھا کہ یونیورسٹی میں انھیں ’خود کو ماحول کا حصہ محسوس کرنے میں مشکل پیش آتی تھی‘ اور وہ خود کو ’اجنبی‘ محسوس کرتے تھے۔

تاہم موسیقی سے محبت رکھنے والے برنہم جو مانچسٹر کے انڈی بینڈز ’دا سمتھس‘ اور ’دا سٹون روزز‘ کے مداح ہیں، نے کہا کہ ’مانچسٹر کی موسیقی میں میری بڑھتی ہوئی دلچسپی نے مجھے ایک شناخت اور ایک برتری فراہم کی۔‘

اپنی مدت پوری کرنے والے وزیرِ اعظم سر کیئر سٹارمر اپریل میں ایشٹن انڈر لائن، گریٹر مانچسٹر میں ناشتے کے ایک کلب کے دورے کے دوران اینڈی برنہم کے ہمراہ دو یونیفارم پہنے بچوں سے گفتگو کر رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنوزیرِ اعظم سر کیئر سٹارمر اپریل میں ایشٹن انڈر لائن، گریٹر مانچسٹر میں ناشتے کے ایک کلب کے دورے کے دوران اینڈی برنہم کے ہمراہ دو یونیفارم پہنے بچوں سے گفتگو کر رہے ہیں۔

رکنِ پارلیمان سے گریٹر مانچسٹر کے میئر تک

گریجویشن کے بعد برنہم نے صحافت شروع کی اور ’ٹینک ورلڈ‘ اور ’پیسنجر ورلڈ مینیجمنٹ‘ سمیت دیگر کاروباری جریدوں میں کام کیا۔

20 سال کی عمر کے بعد انھیں سیاست میں اُس وقت پذیرائی ملی جب اُنھوں نے رُکن پارلیمان ٹیسا جوول کے ساتھ بطور محقق کام کیا۔

ٹیسا جوول بعدازاں ٹونی بلیئر اور گورڈن براؤن کی کابینہ میں وزیر بنیں۔

برنہم نے تیزی سے ترقی کی اور ثقافت کے سکریٹری کرس سمتھ کے خصوصی مشیر بن گئے، پھر 2001 میں گریٹر مانچسٹر کے اپنے آبائی حلقے میں رکنِ پارلیمان منتخب ہوئے۔

انھوں نے ابتدا میں بلیئر حکومت میں جونیئر وزیر کے طور پر خدمات انجام دیں، لیکن بعد میں براؤن کے دور میں چیف سیکریٹری ٹو دی ٹریژری، پھر ثقافت کے سیکریٹری اور بعد ازاں صحت کے سیکریٹری بنے۔

ثقافت، میڈیا اور کھیلوں کے سیکریٹری کی حیثیت سے ہِلزبرا سانحے کی 20ویں برسی کی یادگاری تقریب میں انھیں ہوٹنگ کا سامنا کرنا پڑا۔

سنہ 1989 کے اس سٹیڈیم سانحے میں لیورپول کے 97 شائقین ہلاک ہوئے تھے۔

اس ردِعمل نے برنہم کو کابینہ میں یہ معاملہ اٹھانے پر آمادہ کیا جس سے اس سانحے کی دوسری تحقیقات کے آغاز میں مدد ملی۔

2009 میں برائٹن میں ہونے والے سالانہ لیبر اراکینِ پارلیمان بمقابلہ صحافیوں کے فٹبال میچ کے دوران اینڈی برنہم گول کرنے کے لیے شاٹ لگا رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن2009 میں برائٹن میں ہونے والے سالانہ لیبر اراکینِ پارلیمان بمقابلہ لابی صحافیوں کے فٹبال میچ کے دوران اینڈی برنہم گول کرنے کے لیے شاٹ لگا رہے ہیں۔

سنہ 2010 میں لیبر پارٹی کی عام انتخابات میں شکست اور گورڈن براؤن کے استعفے کے بعد، برنہم نے پارٹی قیادت کے لیے انتخاب لڑا۔

وہ پانچ امیدواروں میں سے چوتھے نمبر پر رہے اور ایڈ ملی بینڈ سے ہار گئے، لیکن اگلے پانچ برسوں میں انھوں نے پارٹی کی نچلی سطح کی تنظیموں میں اپنی مقبولیت بڑھائی۔

سنہ 2015 میں اُنھوں نے دوبارہ کوشش کی لیکن اس بار جیریمی کوربن سے شکست کھا گئے۔

ان کے ناقدین انھیں سیاسی ہوا کا رخ دیکھنے والا فرد قرار دیتے ہیں، جس کے خیالات کامیابی کے بہتر امکانات کے لیے سیاسی رجحانات کے ساتھ تبدیل ہوتے رہے ہیں۔

وہ کوربن کی شیڈو کابینہ میں شیڈو ہوم سیکریٹری کے طور پر شامل رہے، حالانکہ انھیں پارٹی کے بلیئر نواز اعتدال پسند دائیں بازو سے وابستہ سمجھا جاتا تھا۔

برنہم کے خیالات بتدریج بائیں بازو کی جھکتے گئے اور اُنھوں نے پانی اور توانائی کے شعبوں کو قومی تحویل میں لینے کی حمایت کی۔

سنہ 2016 میں کوربن کی قیادت کے خلاف احتجاجاً استعفا دینے والوں میں وہ شامل نہیں تھے۔

اس کے بجائے اُنھوں نے 2017 میں استعفی دے دیا تاکہ گریٹر مانچسٹر کے پہلے میئر کے طور پر انتخاب لڑ سکیں۔

برنہم نے 60 فیصد سے زائد ووٹ حاصل کر کے کامیابی حاصل کی اور 2021 میں اس سے بھی بڑے فرق سے دوبارہ منتخب ہوئے۔

اینڈی برنہم 2014 میں اینفیلڈ سٹیڈیم میں اپنی تقریر کے بعد تالیاں بجاتے ہوئے مجمعے کے ایک رکن سے مصافحہ کر رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشناینڈی برنہم 2014 میں اینفیلڈ سٹیڈیم میں اپنی تقریر کے بعد تالیاں بجاتے ہوئے مجمعے کے ایک رکن سے مصافحہ کر رہے ہیں۔

’بی نیٹ ورک‘ اور لاک ڈاؤن پر ٹکراؤ

میئر کی حیثیت سے انھیں خطے کے ٹرانسپورٹ نظام میں تبدیلیوں پر سراہا گیا ہے۔

ان کی قیادت میں گریٹر مانچسٹر لندن سے باہر انگلینڈ کا پہلا علاقہ بنا جہاں بس سروسز دوبارہ عوامی کنٹرول میں لائی گئیں اور انھیں دیگر ذرائع نقل و حمل کے ساتھ ’بی نیٹ ورک‘ کے برینڈ کے تحت مربوط کیا گیا۔

دیگر جرات مندانہ وعدوں میں 2020 تک خطے میں کھلے آسمان تلے سونے والے افراد کو سہولت دینے کا وعدہ شامل تھا، تاہم وہ اس معاملے میں اپنے اہداف حاصل نہ کر سکے۔

کووڈ وبا کے دوران اُنھوں نے دوبارہ شہ سرخیوں میں جگہ بنائی، جب کنزرویٹو حکومت پر علاقائی لاک ڈاؤن پابندیوں کے معاملے پر شمالی انگلینڈ کے ساتھ ’تحقیر آمیز‘ رویہ اختیار کرنے کا الزام لگایا۔

اس ٹکراؤ نے انھیں ’کنگ آف دی نارتھ‘ کا لقب دلانے میں مدد دی۔

2025 کے خزاں کے پارٹی کانفرنس سیزن تک برنہم کھلے عام اعلیٰ ترین عہدے کے لیے سرگرم ہو چکے تھے، کیونکہ انھوں نے قیادت کے لیے امیدوار بننے کے امکان کو مسترد کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

جنوری میں ویسٹ منسٹر واپسی کا ایک ممکنہ موقع اُس وقت پیدا ہوا جب گریٹر مانچسٹر کے رکنِ پارلیمان اینڈریو گوئن نے استعفی دینے کا اعلان کیا، جس کے نتیجے میں ان کے گورٹن اینڈ ڈینٹن حلقے میں ضمنی انتخاب کی راہ ہموار ہوئی۔

تاہم وزیرِ اعظم کی منظوری کے ساتھ لیبر پارٹی کی حکمران باڈی نے برنہم کو انتخاب لڑنے سے روک دیا۔

مئی تک صورتحال تبدیل ہو چکی تھی۔

ان کی قیادت میں گریٹر مانچسٹر لندن سے باہر انگلینڈ کا پہلا علاقہ بنا جہاں بس سروسز دوبارہ عوامی کنٹرول میں لائی گئیں

،تصویر کا ذریعہPA Media

،تصویر کا کیپشن ان کی قیادت میں گریٹر مانچسٹر لندن سے باہر انگلینڈ کا پہلا علاقہ بنا جہاں بس سروسز دوبارہ عوامی کنٹرول میں لائی گئیں

لیبر کو انگلینڈ، سکاٹ لینڈ اور ویلز میں انتخابی نتائج میں مایوس کن کارکردگی کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ ریفارم پارٹی سرویز میں مضبوط پوزیشن حاصل کر رہی تھی اور برنہم کے سیاسی گڑھ میں بھی کامیابیاں حاصل کر رہی تھی۔

سر کیئر سٹارمر کو اپنے مستقبل کے حوالے سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا تھا، کچھ ارکانِ پارلیمان تبدیلی کا مطالبہ کر رہے تھے اور کابینہ کے ارکان کے استعفے بھی سامنے آ رہے تھے۔

جوش سائمنز نے اعلان کیا کہ وہ میکرفیلڈ سے لیبر رکنِ پارلیمان کی حیثیت سے مستعفی ہو جائیں گے تاکہ برنہم کو دوبارہ پارلیمان واپسی کی مہم چلانے کا موقع دیا جا سکے۔

بعد ازاں برنہم اس حلقے کے لیے لیبر امیدوار منتخب ہوئے اور اگلے ماہ اُنھوں نے دوبارہ ویسٹ منسٹر میں اپنی نشست حاصل کر لی۔