خامنہ ای کے تین بیٹوں کی والد کی نماز جنازہ میں شرکت، جنازے میں ایرانیوں کو روتے ہوئے دیکھ کر حیران ہوں، صدر ٹرمپ

ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے تین بیٹے میثم، مسعود اور مصطفیٰ خامنہ ای، تہران کی مسجد میں اپنے والد کی نمازِ جنازہ کی پہلی صف میں موجود تھے۔ تاہم چوتھے بھائی اور ایران کے موجودہ رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای غیر حاضر تھے۔ دوسری جانب امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ کے جنازے میں ایرانیوں کو روتے ہوئے دیکھ کر حیران رہ گئے ہیں۔

خلاصہ

  • ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای اور اہلِ خانہ کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی
  • علی خامنہ ای کے تین بیٹے میثم، مسعود اور مصطفیٰ خامنہ ای نمازِ جنازہ میں پہلی صف میں موجود تھے، جبکہ ان کے چوتھے بیٹے اور ایران کے موجودہ رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای موجود نہیں تھے
  • نماز جنازہ آیت اللہ جعفر سبحانی تبریزی نے پڑھائی
  • ہمارے درمیان اچھی ہم آہنگی ہے، نیتن یاہو جانتے ہیں کہ باس کون ہے: صدر ٹرمپ
  • آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں سے سروس فیس وصول کی جائے گی: ایران

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!

    بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔

    چھ جولائی کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔

  2. پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاج کے دوران فائرنگ، ایک شخص ہلاک, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہFarhan Tariq

    پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں جاری کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاج کے دوران فائرنگ کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک جبکہ انٹیلی جنس بیورو کا ایک انسپکٹر زخمی ہو گیا ہے۔

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی پولیس کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ عوامی ایکشن کمیٹی کے اہلکار ڈھڈیال شہر کی جانب مارچ کر رہے تھے کہ وہاں پر موجود پولیس اہلکاروں نے انھیں روکا۔

    پولیس اہلکار کے بقول مظاہرین نے پولیس پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں ایک انسپکٹر زخمی ہو گیا۔

    اُنھوں نے کہا کہ جوابی فائرنگ کے نتیجے میں مظاہرین میں شامل ایک شخص ہلاک اور دو زخمی ہو گئے ہیں. پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والے شخص نے ہی آئی بی کے افسر پر فائرنگ کی تھی۔

    اُنھوں نے کہا کہ ہوائی فائرنگ اور لاٹھی چارج کے نتیجے میں مظاہرین منتشر ہو گئے ہیں۔

    پولیس افسر کے مطابق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی پولیس کے چار اہلکاروں کو راولا کوٹ میں کالعدم جماعت جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکنوں نے اغوا کیا ہے۔

    اُنھوں نے کہا کہ ان پولیس اہلکاروں کو اس وقت اسلحے کے زور پر یرغمال بنایا گیا جب وہ چھٹی سے واپس اپنی ڈیوٹی پر آرہے تھے۔

    مقامی صحافی فرحان طارق کے مطابق کالعدم جماعت جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی احتجاج کی کال پر پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد میں 80 فیصد دکانیں اور مارکیٹیں بند ہیں۔

    اُن کے مطابق شہر میں پبلک ٹرانسپورٹ بند ہے تاہم مظفر آباد کے ڈپٹی کمشنر کا کہنا ہے کہ شہر میں مارکیٹیں کھلی ہیں اور معمولات زندگی معمول کے مطابق چل رہے ہیں۔

  3. قطر اور ایران کے درمیان پانچ ماہ بعد سمندری تجارت بحال

    دوحہ میں ایران کے کمرشل اتاشی کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان سمندری تجارت ’تقریباً پانچ ماہ بعد‘ بحال کر دی گئی ہے۔ یہ خبر قطر کی وزارتِ ٹرانسپورٹ کی جانب سے ملک میں جہاز رانی اور سمندری نقل و حمل کی سرگرمیاں دوبارہ شروع ہونے کے اعلان کے بعد سامنے آئی ہے۔

    قطر میں ایران کے مشیر عباس عبدالخانی نے ایرانی میڈیا کو بتایا کہ ’دوحہ میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفارت خانے کی مسلسل کوششوں اور قطری حکومت کے متعلقہ حکام کے ساتھ رابطے اور تعاون‘ کے نتیجے میں ’دیر‘ (Deir) اور ’الرویس‘ (Al Ruwais) کی بندرگاہوں کے درمیان سامان کی سمندری نقل و حمل دوبارہ شروع کی گئی۔

    اس سے قبل قطر کی وزارتِ ٹرانسپورٹ نے سوشل نیٹ ورک ’ایکس‘ پر ایک بیان میں اعلان کیا تھا کہ ’تمام اقسام کے بحری جہازوں اور کشتیوں‘ کی آمدورفت دوبارہ کھول دی گئی ہے اور اس بات پر زور دیا تھا کہ ’حفاظت اور سکیورٹی کے لیے ضروری آلات دستیاب ہیں۔‘

    ایک ہفتہ قبل قطری وزارتِ ٹرانسپورٹ نے تمام اقسام کی بحری کشتیوں اور جہازوں کے مالکان اور صارفین سے کہا تھا کہ وہ اگلے حکم تک ملک کی سمندری حدود میں کسی بھی قسم کی جہاز رانی یا سرگرمی سے گریز کریں۔

  4. خامنہ ای کے جنازے میں کچھ ایرانیوں کو روتے ہوئے دیکھ کر حیران ہوں: صدر ٹرمپ

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ کے جنازے میں کچھ ایرانیوں کو روتے ہوئے دیکھ کر حیران رہ گئے ہیں۔

    امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ سابق ایرانی رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای کا جنازہ دیکھ رہے ہیں۔

    اُنھوں نے کہا کہ وہ تقریب میں کچھ ایرانیوں کو روتے ہوئے دیکھ کر حیران ہوئے، کیونکہ ان کے خیال میں لوگ ’علی خامنہ ای سے نفرت کرتے ہیں۔‘

    ایگزیوس کے مطابق صدر ٹرمپ نے پھر کچھ دیر سوچنے کے بعد کہا کہ ’شاید یہ آنسو اصلی نہیں ہیں۔‘

    صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ ’ایرانی معاہدے تک پہنچنے کے لیے بھیک مانگ رہے ہیں۔‘

  5. یمن کی الحدیدہ بندرگاہ کے قریب ایک مال بردار جہاز پر حملے کی اطلاعات

    gettyimages

    ،تصویر کا ذریعہgettyimages

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    برطانیہ کی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز اتھارٹی کا کہنا ہے کہ اسے یمنی بندرگاہ الحدیدہ کے قریب ایک کارگو جہاز پر حملے کی اطلاع ملی ہے۔

    برطانوی بحری ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق الحدیدہ کی بندرگاہ سے 30 ناٹیکل میل جنوب مغرب میں ایک مال بردار جہاز نے مدد کی درخواست کرتے ہوئے پیغام پہنچایا کہ اسے نامعلوم حملہ آوروں نے نشانہ بنایا ہے۔

    تنظیم نے کہا کہ حکام واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں اور کشتی چلانے والوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ احتیاط کے ساتھ آگے بڑھیں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع دیں۔

    دریں اثنا، یمنی حکومت کا کہنا ہے کہ الحدیدہ بندرگاہ کے جنوب میں حوثی فورسز کے حملے میں اس کے 14 فوجی مارے گئے۔

    یمنی حکومت کے ایک فوجی اہلکار نے اے ایف پی کو بتایا کہ حکومت کی حامی فورسز نے سنیچر کے روز الحدیدہ کے جنوب میں واقع علاقے حیس پر حوثیوں کے حملے کو ’گھنٹوں کی لڑائی کے بعد‘ پسپا کر دیا۔

    انھوں نے بتایا کہ متعدد حوثی اہلکار بھی ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں، تاہم انھوں نے درست اعداد و شمار فراہم نہیں کیے ہیں۔

    یہ جھڑپیں ایران کے اتحادی حوثیوں کی جانب سے سعودی مفادات پر حملے کی دھمکی کے ایک دن بعد ہوئی ہیں۔

    حوثیوں نے سعودی عرب پر الزام عائد کیا ہے جو یمنی حکومت کی حمایت کرتا ہے، اس نے ایرانی طیارے کو یمن میں اترنے سے روکنے کی کوشش کی۔

    یمنی حکومت نے ایران پر اپنی فضائی حدود کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔

  6. ہم نے ایران کی عسکری قوت کو تباہ کر دیا ہے: صدر ٹرمپ کا امریکہ کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی آزادی کی 250 ویں سالگرہ کے موقع پر اپنی تقریر میں ایران کا بھی ذکر کیا۔

    اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، جو طوفان کے باعث کئی گھنٹے تاخیر کا شکار ہوئی، صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ انسانی تہذیب کی ’سب سے عظیم کامیابی‘ ہے اور اب ان کی قیادت میں اپنی شان و شوکت کے عروج پر ہے۔

    اُن کا کہنا تھا کہ ’امریکی فوج اتنی طاقتور کبھی نہیں رہی جتنی آج ہے۔‘

    اس تقریب میں ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی تقاریر کے روایتی موضوعات کا بھی احاطہ کیا، جن میں امریکہ کی معاشی طاقت اور آزادیوں کی تعریف، ’کمیونسٹوں‘ کی مذمت، اور اپنی صدارت کی کامیابیوں اور امریکی فوج کی طاقت کا ذکر شامل تھا۔

    اُنھوں نے ایران کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ ’ہم نے ایران کی عسکری قوت کو تباہ کر دیا ہے۔‘

    اپنی پالیسیوں کا ذکر کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ وہ انتخابی اصلاحات کے خواہاں ہیں اور ایک ایسا ایگزیکٹو آرڈر جاری کرنا چاہتے ہیں جس کے تحت پیدائشی حق (birthright) کی بنیاد پر شہریت دینے کا عمل روک دیا جائے۔

    اپنی تقریر میں صدر ٹرمپ نے ان سابق فوجیوں کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا جنھوں نے مختلف جنگوں میں حصہ لیا تھا۔

    تقریباً 40 منٹ طویل اس تقریر کے اختتام پر صدر نے کہا کہ ’یہ امریکہ کے لیے ایک سنہری دور کا محض آغاز ہے۔‘

    طوفان اور آسمانی بجلی گرنے کے باعث امریکی آزادی کی 250 ویں سالگرہ کی تقریبات میں تاخیر ہوئی۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا کہ انہیں یہ تقریب کسی اور دن منعقد کرنے کا مشورہ دیا گیا تھا، لیکن اُنھوں نے اسے مسترد کر دیا۔

  7. ’نیتن یاہو جانتے ہیں کہ باس کون ہے‘، صدر ٹرمپ کا اسرائیلی وزیرِ اعظم سے تعلقات پر تبصرہ

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو اگلے ہفتے کے اوائل میں وائٹ ہاؤس کا دورہ کر سکتے ہیں۔

    ایران کے ساتھ جنگ ​​کے آغاز کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ پہلی ملاقات ہوگی۔

    صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو کے ساتھ اپنے تعلقات کے بارے میں کہا کہ ’وہ جانتے ہیں کہ باس کون ہے۔‘

    امریکی ویب سائٹ ’ایگزیوز‘ کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیرِ اعظم کے حوالے سے کہا کہ ’ہمارے تعلقات بہت اچھے ہیں اور نیتن یاہو جانتے ہیں کہ باس کون ہے۔‘

    صدر ٹرمپ اور نیتن یاہو کی ملاقات ایران کے ساتھ جنگ ​​اور لبنان میں اسرائیل کی کارروائیوں پر دونوں رہنماؤں کے درمیان کشیدگی کی اطلاعات کے باوجود متوقع ہے۔

    ایک اسرائیلی عہدیدار نے بھی ایگزیوز کو بتایا کہ اگلے ہفتے ملاقات کا انعقاد شاید بہت جلد بازی ہوگی، کیونکہ صدر ٹرمپ کا دو دن بعد نیٹو (NATO) سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے ترکی کا دورہ طے ہے۔

    عہدیدار کے مطابق، یہ ملاقات نیٹو سربراہی اجلاس کے بعد والے ہفتے میں ہو سکتی ہے۔

    اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے بھی اعلان کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان جمعے کو ٹیلی فون پر بات چیت ہوئی اور وہ امریکہ میں ’جلد‘ ملاقات کرنے پر متفق ہوئے ہیں۔

  8. علی خامنہ ای کے تین بیٹے والد کی نمازِ جنازہ میں شریک ہوئے

    علی خامنہ ای کے تین بیٹے والد کی نمازِ جنازہ میں شریک ہوئے

    ،تصویر کا ذریعہIRIB

    ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کے تین بیٹے میثم، مسعود اور مصطفیٰ خامنہ ای تہران کی مسجد میں اپنے والد کی نمازِ جنازہ میں پہلی صف میں موجود تھے۔

    تاہم، بی بی سی فارسی کے مطابق ان کے چوتھے بھائی یعنی ایران کے موجودہ رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای نمازِ جنازہ میں موجود نہیں تھے۔

    امریکہ اور اسرائیل نے رواں سال کے آغاز میں حملہ کر کے علی خامنہ کو ہلاک کر دیا تھا۔

    تہران کے بڑے مذہبی اور ثقافتی مرکز ’امام خمینی مصلیٰ‘ میں علی خامنہ ای اور ان کے خاندان کے دیگر افراد کی نماز جنازہ آیت اللہ جعفر سبحانی نے پڑھائی۔

    ارنا کے مطابق نماز جنازہ تین مراحل میں ادا کی گئی۔ پہلے مرحلے میں سابق رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای، دوسرے مرحلے میں ان کی بیٹی بشریٰ خامنہ ای، داماد مصباح الہدیٰ باقری اور بہو زہرا حداد عادل کی نماز جنازہ اد کی گئی۔ تیسرے مرحلے میں علی خامنہ ای کی کم سن نواسی زہرا محمدی کی نماز جنازہ ادا کی گئی۔

  9. ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ اور ان کے اہلِ خانہ کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی

    ایران کے رہبر اعلیٰ کی نماز جنازہ

    ،تصویر کا ذریعہIRIB

    ایران کے خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق تہران میں سابق رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای اور ان کے اہلِ خانہ کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی۔ امریکہ اور اسرائیل نے رواں سال کے آغاز میں حملہ کر کے انھیں ہلاک کر دیا تھا۔

    تہران کے بڑے مذہبی اور ثقافتی مرکز ’امام خمینی مصلیٰ‘ میں نماز جنازہ آیت اللہ جعفر سبحانی نے پڑھائی۔

    ارنا کے مطابق نماز جنازہ تین مراحل میں ادا کی گئیں۔ پہلے مرحلے میں سابق رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای، دوسرے مرحلے میں ان کی بیٹی بشریٰ خامنہ ای، داماد مصباح الہدیٰ باقری اور بہو زہرا حداد عادل کی نماز جنازہ اد کی گئی۔

    تیسرے مرحلے میں علی خامنہ ای کی کم سن نواسی زہرا محمدی کی نماز جنازہ ادا کی گئی۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق نمازِ جنازہ کے بعد تقریب کے منتظمین نے علی خامنہ ای کے خون کا بدلہ لینے اور انتقام کے نعرے لگوائے۔

  10. امریکہ کی فوج جتنی طاقت ور آج ہے، پہلے کبھی نہ تھی، ایران کی فوج کو مٹا کر رکھ دیا: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہAndrew Harnik/Getty Images

    امریکہ کی آزادی کی 250 ویں سالگرہ کے موقع پر اپنے خطاب میں صدر ٹرمپ نے بیرونِ ملک امریکی کارروائیوں کا حوالہ دیا، جس میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو پکڑنے اور ایران کے خلاف حملوں کا ذکر تھا۔

    انھوں نے کہا کہ ’امریکہ کی فوج جتنی طاقت ور آج ہے، پہلے کبھی نہ تھی‘ اور ’ایران کی فوج کو مٹا کر رکھ دیا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ایسا کوئی چیلنج نہیں جو امریکی پورا نہ کر سکیں، ایسی کوئی جگہ نہیں جہاں ہم جا نہ سکیں، ایسا کوئی ہدف نہیں جو ہم حاصل نہ کر سکیں۔‘

    امریکی آزادی کی 250 ویں سالگرہ کے موقع پر ٹرمپ کے خطاب میں ان کے روایتی موضوعات نمایاں رہے، جن میں امریکی کاروباری اور معاشی صلاحیتوں کی تعریف، ’کمیونسٹوں‘ کی مذمت اور اپنے دورِ حکومت کی کامیابیوں کا ذکر شامل تھا۔

    ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ فوج اور پولیس میں بھرتیوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث اب ان شعبوں میں ملازمت حاصل کرنا ’مشکل‘ ہو گیا ہے۔

    ٹرمپ نے انتخابی اصلاحات سے متعلق سیو امریکہ ایکٹ، پیدائشی شہریت کے حق کو ختم کرنے کی کوشش کرنے والے ایگزیکٹو آرڈر، اور امریکی آئین کی دوسری ترمیم کے تحفظ کا ذکر کیا، جو شہریوں کو ہتھیار رکھنے کا حق دیتی ہے۔

    اپنے خطاب کے دوران ٹرمپ نے مختلف جنگوں میں حصہ لینے والے سابق امریکی فوجیوں کو خراجِ تحسین بھی پیش کیا۔ تقریباً 40 منٹ کے خطاب کے اختتام پر ٹرمپ نے کہا کہ ’یہ تو امریکہ کے سنہری دور کی محض شروعات ہے۔‘

    واشنگٹن میں امریکہ کی آزادی کی 250 ویں سالگرہ کی تقریبات طوفان اور گرج چمک کے باعث تاخیر کا شکار ہوئیں۔ خطاب کے آغاز میں خراب موسم کے باعث پیش آنے والی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے ٹرمپ نے حاضرین سے کہا: ’اگر آپ سمجھتے ہیں کہ یہ آسان تھا تو ایسا نہیں تھا۔‘

    ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ انھیں یہ تقریب کسی اور روز منعقد کرنے کا مشورہ دیا گیا، لیکن انھوں نے انکار کر دیا۔

  11. ہم آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں سے سروس فیس وصول کریں گے: ایران

    NurPhoto via Getty images

    ،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty images

    چین میں ایران کے سفیر کا کہنا ہے کہ تہران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں سے ’سروس فیس‘ وصول کرے گا، اس منصوبے کی امریکہ نے مخالفت کی ہے۔

    عبدالرضا رحمانی فضلی نے بیجنگ میں ’ورلڈ پیس فورم‘ میں کہا کہ ایران، عمان کے تعاون سے اس اہم آبی گزرگاہ کے لیے ’نئے انتظامات‘ پر کام کر رہا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’ایک ایسے ملک کے طور پر جس کے علاقائی پانیوں میں ہرمز شامل ہے، ہم یقینی طور پر سروس فیس وصول کریں گے۔‘ رحمانی فضلی نے زور دیا کہ یہ ’ٹرانزٹ فیس‘ نہیں شمار ہو گی۔

    ان کے بقول، ان نئے انتظامات کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے کی حفاظت کو یقینی بنانا، جہازوں کی آمدورفت کی نگرانی کرنا اور جہازوں کی زیادہ مقدار کے ماحولیاتی نتائج سے نمٹنا ہے۔

    ایرانی سفیر نے یہ بھی کہا کہ جو ممالک ’مشکل دنوں‘ میں ایران کے ساتھ کھڑے رہے ہیں ان کے ساتھ ’خصوصی سلوک‘ کیا جائے گا۔

    ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کے خاتمے کے ابتدائی معاہدے کے مطابق تجارتی بحری جہاز 60 دن تک بغیر فیس ادا کیے آبنائے ہرمز سے گزر سکتے ہیں تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ یہ مدت ختم ہونے کے بعد کیا انتظامات کیے جائیں گے۔

    آبنائے ہرمز عام طور پر دنیا کے خام تیل اور مائع قدرتی گیس کے تقریباً پانچویں حصے کے لیے گزرگاہ ہے، لیکن مشرق وسطیٰ کی جنگ کے دوران ایران نے اس راستے کو مؤثر طریقے سے بند کر دیا، جس کی وجہ سے توانائی کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا۔

  12. مراکش نے کینیڈا کو شکست دے کر فٹبال ورلڈ کپ کے کوارٹر فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیا

    Football

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    مردوں کے عالمی فٹ بال کپ میں مراکش نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے راؤنڈ آف 16 کے میچ میں کینیڈا کو 3-0 سے شکست دے کر کوارٹر فائنل کے لیے کوالیفائی کرنے والی پہلی ٹیم بننے کا اعزاز حاصل کر لیا۔

    اس شکست کے ساتھ ہی کینیڈا ٹورنامنٹ کے اس ایڈیشن سے باہر ہونے والا پہلا شریک میزبان ملک بن گیا۔

    مراکش کی جانب سے ایزدین اوناحی نے عمدہ کھیل پیش کرتے ہوئے پہلے دو گول سکور کیے، جبکہ سفیان رحیمی نے انجری ٹائم کے آخری لمحات میں تیسرا گول کر کے اپنی ٹیم کی کامیابی پر مہر ثبت کر دی۔

    افریقی کپ آف نیشنز کے موجودہ چیمپئن مراکش اب سیمی فائنل تک رسائی کے لیے کوارٹر فائنل میں فرانس اور پیراگوئے کے درمیان ہونے والے میچ کے فاتح کا سامنا کرے گا۔

  13. حزب اللہ اور حماس کے سینیئر نمائندوں کی علی خامنہ ای کی سوگ کی تقریب میں شرکت

    ایران کے سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ حزب اللہ اور حماس کے سینیئر نمائندوں نے ایران کے سابق رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای کے سوگ کے پہلے سرکاری دن میں شرکت کی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق، وہ ایران کے حامیوں کے ایک بڑے ہجوم میں شامل تھے جو تہران میں علی خامنہ ای کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے جمع ہوئے۔

    واضح رہے کہ 86 سالہ علی خامنہ ای فروری میں اسرائیل اور امریکی مشترکہ فضائی حملے میں مارے گئے تھے۔

    تفصیلات کے مطابق ایران اور عراق کے کئی شہروں میں سات روزہ جنازے اور سوگ کی تقریب منعقد کی جائے گی اور آخر میں علی خامنہ ای کی تدفین جمعرات کو ان کے آبائی شہر مشہد میں کی جائے گی۔

  14. اب نان بینکنگ فنانس کمپنیاں بھی وزیراعظم اپنا گھر پروگرام کے تحت قرض دے سکیں گی، وفاقی حکومت کی منظوری, تنویر ملک، صحافی

    سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کی سفارش پر وفاقی حکومت نے قرض فراہم کرنے والی نان بینکنگ فنانس کمپنیوں (این بی ایف سیز) کو وزیراعظم اپنا گھر پروگرام میں شامل کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

    اس اقدام سے ایسے افراد کے لیے بھی گھریلو قرضوں تک رسائی آسان ہو جائے گی جو روایتی بینکاری نظام سے مکمل طور پر مستفید نہیں ہو پاتے۔

    نئی منظوری کے تحت نان بینکنگ ہاؤسنگ فنانس کمپنیاں اور انویسٹمنٹ فنانس کمپنیاں ایک کروڑ روپے تک جبکہ مائیکرو فنانس کمپنیاں پچاس لاکھ روپے تک کے ہاؤسنگ قرضے فراہم کر سکیں گی۔ سکیم کے مطابق قرض پانچ فیصد شرحِ منافع پر 20 سال تک کی مدت کے لیے دستیاب ہوگا۔

    این بی ایف سیز کی شمولیت سے شہریوں کو سستے گھریلو قرضوں کے مزید مواقع میسر آئیں گے۔ ان اداروں کے وسیع نیٹ ورک اور ڈیجیٹل سہولیات کے باعث کم سہولت یافتہ اور دور دراز علاقوں میں رہنے والے افراد تک بھی ہاؤسنگ فنانس کی رسائی بہتر بنائی جا سکے گی۔

    وزیراعظم اپنا گھر پروگرام کے تحت پہلی بار گھر خریدنے والے اہل افراد ایک کروڑ روپے تک کا قرض حاصل کر سکتے ہیں۔ اس سکیم میں حکومت پہلے دس سال کے لیے صرف پانچ فیصد شرح منافع پر قرض کی سہولت فراہم کر رہی ہے، جس کا مقصد متوسط اور کم آمدن والے خاندانوں کے لیے گھر کی ملکیت کو ممکن بنانا ہے۔

    اس ضمن میں ایس ای سی پی نے این بی ایف سیز کی مؤثر شمولیت کے لیے ایک جامع ریگولیٹری فریم ورک بھی جاری کر دیا ہے۔ اس فریم ورک کے تحت اہل این بی ایف سیز اپنی مالی استعداد کے مطابق یا دیگر این بی ایف سیز، کمرشل بینکوں اور ترقیاتی مالیاتی اداروں کے اشتراک سے ہاؤسنگ فنانس فراہم کر سکیں گی۔

    ایس ای سی پی نے اہلیت کے معیار، آپریشنل طریقہ کار، مالیاتی احتیاطی تقاضوں اور نگرانی کے نظام سے متعلق تفصیلی ہدایات بھی جاری کی ہیں تاکہ اسکیم کے تحت شفاف، ذمہ دارانہ اور پائیدار قرض فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔

    ایس ای سی پی کا کہنا ہے کہ مالی شمولیت کے فروغ اور جدید مالیاتی سہولیات کی فراہمی کے ذریعے زیادہ سے زیادہ پاکستانیوں کو اپنے گھر کا خواب پورا کرنے کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں، جبکہ این بی ایف سیز کی شمولیت اس مقصد کے حصول میں اہم پیش رفت ثابت ہوگی۔

  15. شہباز شریف، اردوغان ملاقات: تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری پر اتفاق

    CMShehbaz

    ،تصویر کا ذریعہCMShehbaz

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوغان سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ تنازعات کے حل اور عالمی امن و سلامتی کے تحفظ کے لیے مذاکرات، سفارت کاری اور باہمی احترام ہی واحد پائیدار راستہ ہیں۔

    انھوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ آج استنبول کے تاریخی شہر میں اپنے انتہائی عزیز بھائی، ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان سے ملاقات کرنا ان کے لیے باعثِ اعزاز تھا۔

    وزیراعظم کے مطابق ملاقات کے دوران پاکستان اور ترکیہ کے سٹریٹجک شراکت داری کے تمام اہم پہلوؤں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں تجارت، سرمایہ کاری، دفاعی تعاون، توانائی، رابطہ سازی، ٹیکنالوجی، علاقائی امن اور عوامی روابط پر خصوصی توجہ دی گئی۔

    انھوں نے کہا کہ دونوں ممالک نے دوطرفہ تجارت کو پانچ ارب امریکی ڈالر تک پہنچانے کے مشترکہ ہدف کے حصول اور پاکستان و ترکیہ کے برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

    وزیراعظم نے مزید بتایا کہ اس سے قبل انھوں نے پاکستان-ترکیہ بزنس کانفرنس میں بھی شرکت کی۔

  16. ایران نے آبنائے ہرمز میں فوجی موجودگی پر برطانیہ اور فرانس کو’سنگین نتائج‘ سے خبردار کر دیا

    آبنائے ہرمز

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کی وزارتِ خارجہ نے آبنائے ہرمز میں کسی بھی فوجی سرگرمی کے خلاف برطانیہ اور فرانس کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے ’سنگین نتائج‘ ہو سکتے ہیں۔

    یہ ردِعمل برطانیہ اور فرانس کے اس مشترکہ بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں دونوں ممالک نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے تحفظ کے لیے افواج تعینات کرنے کی تیاری کا اظہار کیا تھا۔

    ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز غیرعلاقائی طاقتوں کے فوجی مظاہرے کا میدان نہیں ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ایران اس حساس آبی گزرگاہ کی سلامتی کا ضامن ہے اور وہاں کسی بھی فوجی نقل و حرکت کے خلاف خبردار کرتا ہے۔

    ایران کے نائب وزیر خارجہ کے مطابق آبنائے ہرمز کی سلامتی کی ذمہ داری اس سے متصل ممالک پر عائد ہوتی ہے اور اگر کوئی بحران پیدا ہوتا ہے تو اس کے نتائج کے ذمہ دار وہ عناصر ہوں گے جو کشیدگی بڑھانے کا سبب بنیں گے۔

    جمعے کو جاری کیے گئے مشترکہ بیان میں برطانیہ اور فرانس نے آبنائے ہرمز کو ’عالمی معیشت کے لیے ایک اہم رگ‘ قرار دیا تھا۔

    دونوں ممالک نے کہا تھا کہ وہ اس اہم بحری راستے سے تجارتی جہازوں کی محفوظ اور آزادانہ آمد و رفت کو یقینی بنانے کے لیے ضرورت پڑنے پر افواج تعینات کرنے کے لیے تیار ہیں۔

    آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے اور عالمی تیل تجارت کا ایک بڑا حصہ اسی گزرگاہ سے ہوتا ہے۔

  17. ایران: علی عظمئی پاسداران انقلاب نیوی کے نئے کمانڈر مقرر

    علی

    ،تصویر کا ذریعہIRNA

    ،تصویر کا کیپشنعلی عظمئی (دائیں) اور علی رضا تنگسیری

    ایران میں پاسداران انقلاب نیوی کے نئے کمانڈر کے طور پر علی عظمئی کو تعینات کر دیا گیا ہے۔

    اس فورس کے سابق کمانڈر علی رضا تنگسیری تھے جو 26 اپریل 1405 کو امریکی اور اسرائیلی افواج کے حملے میں مارے گئے تھے۔

    علی عظمئی اس سے قبل آئی آر جی سی نیوی کے پانچویں ریجن کے کمانڈر تھے۔

    پاسداران انقلاب بحریہ کا پانچواں ریجن چار نومبر 2012 کو تشکیل دیا گیا تھا اور اس کے آپریشنل دائرہ کار کا اعلان ’جزیرہ قشم کے سرے سے لے کر جزیرہ کیش کے مغرب تک جزائر نازیت کے علاقے‘ کے طور پر کیا گیا تھا اور علی عظمئی کو اس علاقے کا کمانڈر مقرر کیا گیا تھا۔

    اس سے قبل وہ آئی آر جی سی نیوی کے فرسٹ ریجن کے ڈپٹی کمانڈر تھے۔

  18. یوکرین کا سینٹ پیٹرزبرگ میں بڑے تیل ٹرمینل اور روسی بحری اڈے پر حملے کا دعویٰ

    سینٹ پیٹرزبرگ میں ایک بڑے تیل ٹرمینل کو رات گئے نشانہ بنایاگیا

    ،تصویر کا ذریعہZelenskiy / Official

    یوکرین کے صدر ولادیمر زیلنسکی کے مطابق یوکرین نے روس کے شمال مغرب میں واقع شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں ایک بڑے تیل ٹرمینل کو رات گئے نشانہ بنایا ہے۔

    یوکرینی صدر کے مطابق ’یہ ایسی اہم تنصیب ہے جو روس کی جنگی مشتقوں کے لیے آمدن پیدا کرنے کا زریعہ ہے۔‘

    یوکرین نے علاقے میں روسی بحریہ کے ایک بڑے اڈے کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ زیلنسکی کا کہنا ہے کہ سینٹ پیٹرزبرگ اور اس کے گرد و نواح میں جن مقامات کو نشانہ بنایا گیا وہ یوکرین کی سرحد سے تقریباً 850 کلومیٹر (528 میل) دور ہیں۔

    فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ حملے سے کتنا نقصان ہوا، تاہم زیلنسکی کی جانب سے شیئر کی گئی ایک ویڈیو میں ایک ڈرون کو ہدف کی جانب جاتے اور حملے کے بعد علاقے سے سیاہ دھواں اٹھتے دیکھا جا سکتا ہے۔

    سینٹ پیٹرزبرگ کے گورنر الیگزاندر بیگلوف نے کہا کہ شہر پر ڈرونز کا بڑا حملہ ہوا۔ انھوں نے تسلیم کیا کہ تیل ٹرمینل اس حملے سے متاثر ہوا ہے تاہم ان کے مطابق کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    حالیہ ہفتوں میں یوکرین نے روس کے توانائی کے شعبے سے متعلق اہم تنصیبات پر ڈرون حملے بڑھا دیے ہیں۔ کیئو کا دعویٰ ہے کہ ان حملوں کے نتیجے میں روس کی تیل صاف کرنے کی تقریباً 43 فیصد صلاحیت متاثر ہوئی ہے۔

    تاہم اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔

    یوکرین کا کہنا ہے کہ روس کی تیل اور گیس تنصیبات جائز فوجی اہداف ہیں کیونکہ ماسکو جنگ جاری رکھنے کے لیے بڑی حد تک تیل اور گیس کی برآمدات پر انحصار کرتا ہے۔

    روسی صدر پوتن نے گزشتہ ہفتے یوکرینی حملوں کی وجہ سے ایندھن کی قلت کا اعتراف کیا تھا اور انھوں نے ہفتے کے روز ایک ایسے قانون پر دستخط کیے جس کا مقصد ملکی منڈی میں ایندھن کی فراہمی بڑھانا ہے۔

    یاد رہے کہ روس نے فروری 2022 میں یوکرین پر مکمل پیمانے کا حملہ شروع کیا تھا۔

    بی بی سی نے بعد میں تصدیق کی کہ سینٹ پیٹرزبرگ کا تیل ٹرمینل حملے کا نشانہ بنا تھا۔

    یوکرینی فوج نے کہا کہ یہ روس کے سب سے بڑے تیل ٹرمینلز میں سے ایک ہے اور سالانہ ایک کروڑ 25 لاکھ ٹن پیٹرولیم مصنوعات تیار کر سکتا ہے۔

    فوج کا یہ بھی کہنا ہے کہ کرونشتادت میں روسی بالٹک بحری بیڑے کے ایک اہم اڈے کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

    روس نے اس دعوے پر کوئی عوامی ردعمل نہیں دیا۔

    گورنر بیگلوف کے مطابق سینٹ پیٹرزبرگ اور لینن گراڈ کے علاقے میں یوکرین کے 72 ڈرون مار گرائے گئے۔

    انھوں نے شہریوں سے کہا کہ خطرہ ختم ہونے تک گھروں کے اندر رہیں۔ انھوں نے خبردار کیا کہ موبائل انٹرنیٹ سروس بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ سینٹ پیٹرزبرگ کی آبادی 50 لاکھ سے زیادہ ہے۔

  19. پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں اتوار کو احتجاج کی کال, شہزاد ملک، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    کشمیر میں احتجاج کی کال

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کالعدم قرار دی جانے والی جماعت جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے اتوار کو کشمیر میں احتجاج کی کال دی ہے۔

    احتجاج کا یہ اعلان راولاکوٹ میں دریک کے مقام عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت کی جانب سے کیا گیا ہے۔

    مقامی صحافی فرحان طارق کے مطابق عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت کی طرف سے جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب تقاریرمیں کہا گیا کہ دنیا بھر میں بسنے والے کشمیر اس تنظیم کو کالعدم قرار دینے اور مبینہ طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے مظاہرین پر جبر اور تشدد کے خلاف مظاہرے کر رہے ہیں، لہٰذا دنیا بھر کی طرح پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں بھی احتجاج کیا جائے گا۔

    پونچھ ڈویژن کے کمشنر سردار وحید خان نے بھی بی بی سی کو اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت کی طرف سے اتوار کو دن دو بجے احتجاجی مظاہروں کی کال دی گئی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ راولاکوٹ میں دریک کے مقام پر دھرنا دیے ہوئے اس جماعت کے کارکنوں کو شہر میں یا کسی اور مقام پر احتجاج کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

    انھوں نے کہا کہ ’شہر میں دکانیں بند ہیں جبکہ ایسی دوکانیں جہاں پر ضروریات زندگی کی اشیا فروخت ہوتی ہیں ان کو ایک مخصوص وقت کے لیے کھولا جاتا ہے جبکہ اس کے بعد ان دکانوں کو بند کردیا جاتا ہے۔‘

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ شہر میں کھانے پینے کی اشیا کی کوئی قلت نہیں ہے۔

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد کے ڈپٹی کمشنر منیر قریشی کا دعویٰ ہے کہ شہر میں تمام مارکیٹیں کھلی ہیں اور ان کے بقول تاجروں کی ایک قابل ذکر تعداد نے کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کی احتجاج کی کال کو مسترد کردیا ہے۔

    انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ شہر میں پبلک ٹرانسپورٹ بھی سڑکوں پر رواں دواں ہے اور شہر میں حالات معمول کے مطابق ہیں۔

  20. بلوچ یکجہتی کمیٹی کا تنظیم کی رکن سید بی بی بلوچ کی فوری رہائی کا مطالبہ, محمد کاظم، بی بی سی اردوڈاٹ کام، کوئٹہ

    بلوچ یکجہتی کمیٹی
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    بلوچ یکجہتی کمیٹی نے ضلع کیچ میں تربت سے تعلق رکھنے والی تنظیم کی رکن سید بی بی بلوچ کی گرفتاری مذمت کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کر دیا ہے۔

    بی وائی سی کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سید بی بی کو دو جولائی کی رات ساڑھے تین بجے بغیر وارنٹ حراست میں لیا گیا اور 24 گھنٹے بعد رہا کر دیا گیا۔

    بیان میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ سید بی بی گزشتہ ایک سال سے ہفتہ وار سی ٹی ڈی میں پیش ہو رہی تھیں تاہم ان کے گھر پر چھاپے، مبینہ طور پر توڑ پھوڑ اور رشتہ داروں کو ہراساں کرنے کے واقعات جاری رہے۔

    بی وائی سی کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ روز جب وہ تربت پریس کلب میں پریس کانفرنس کے بعد سی ٹی ڈی کے دفتر گئیں تو انھیں تھری ایم پی او کے تحت گرفتار کر کے ایک ماہ کےلیے سینٹرل جیل تربت منتقل کر دیا گیا۔

    بی وائی سی نےدھمکی دی ہے کہ اگر سید بی کی جان، سلامتی یا صحت کو کوئی نقصان پہنچا تو اس کی مکمل ذمہ داری ریاستی اداروں پر ہوگی۔